72

جب ایک ظالم بادشاہ نے اللہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی

المجالس الشریعہ میں ہے کہ شیخ محمود حجازی کہتے ہیں کہ حضرت جرجیسؑ کا ذمانہ تھا کہ اس دور کے حاکم نے رب ہونے کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس کے دور حکومت میں قحط پڑگیا اور بارشیں ہونا بند ہوگئیں تو لوگوں نے حاکم وقت سے کہا کہ حضور بارش کا بندوبست کردیں تاکہ قحط ختم ہو جائے۔بادشاہ نے یہ بات سنی تو اللہ کے نام ایک خط لکھا اور حضرت جرجیسؐ کے پاس چلا گیا اور کہا کہ آپؐ اللہ کے نبی ہیں اور جب آپؐ کی اللہ سے ملاقات ہو تو میرا یہ خط اپنے رب کودے دینا۔

بادشاہ کے جانے کے بعد جب حضرت جرجیسؐ نے خط پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ اگر تمھارے رب نے میری بات نہ مانی اور بارش نہ برسائی تو(معاذاللہ) میں تمھارے رب پر ایسا بھیانک حملہ کروں گا کہ پوری دنیا یاد رکھے گی۔تو جب حضرت جرجیسؐ کی اللہ سے ملاقات ہوئی تو اللہ پاک نے فرمایا کہ اے جرجیسؐ میری چٹھی مجھے دےدو۔ جب حضرت جرجیسؐ نے چٹھی دی تو اس میں لکھا تھا کہ اگر تمھارے رب نے بارش نہ برسائی تو ایسا حملہ کروں گا کہ پوری دنیا یاد کرے گی۔ اللہ پاک نے فرمایا کہ اے جرجیسؐ اس سے پوچھو کہ جو وہ دھمکی دے رہا ہے اس پر عمل کیسے کرے گا؟ چناچہ آپؐ اس کے پاس گئے اور کہا کہ اے حاکم وقت اگر اللہ پاک بارش نہ برسائے پھر تو کیا کرے گا؟ اور اپنی دھمکی کو عملی جامہ کیسے پہنائے گا؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور میں اس پر حملہ نہیں کر سکتا اسی لئیے میں نے سوچ رکھا ہے کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو میں اللہ کے ولیوں کو اذیت دونگا کیونکہ اللہ کے ولی اس کے دوست ہیں اور ان کو اذیت پہنچانا اللہ پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔

حضرت جرجیسؐ نے جب یہ بات سنی تواللہ پاک کی باگاہ میں عرض کیا کہ اے اللہ یہ ظالم بادشاہ تیرے ولیوں کو تکلیف پہنچانے کے در پہ پے تو اللہ پاک نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ میرے ولیوں کو ضرر نہ پہنچائے میں بارش برسا دیتا ہوں۔ (معاذاللہ، اللہ اس ظالم سے ڈرا نہیں تھا بلکہ یہ ایک تدبیر تھی)۔ اللہ کے حکم سے بارش ہونے لگی اور وہ ظالم بادشاہ اترانے لگا کہ دیکھو میں نے بارش برسا دی ہے۔ مگر کچھ ہی لمحے میں اس کے دل کی دنیا بدل گئی اور اس نے اپنے کچھ درباری اپنے ساتھ لئیے اور حضرت جرجیسؐ کے پاس گیا۔ تو انھوں نے جب اسے دیکھا تو کہا اب تو یہاں کیا کرنے آیا ہے؟ تو اسنے جواب دیا کہ میں یہاں اس لئیے آیا ہوں کہ اس بات کا اقرار کر لوں کہ تیرا رب سچا ہے اور میں جھوٹا ہوں۔کیونکہ تیرا رب اپنے دوستوں کی خاطر اپنے دشمنوں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے تو اس لئیے میں آج اس رب پر ایمان لاتا ہوں بےشک وہی عبادت کے لائق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں