43

بچہ جمورا : مرادعلی شاہد

(کسی بھی قسم کے بچہ جمورا کا آپ کی خصوصیات سے ملنا محض اتفاق ہوسکتاہے)
کہنے کو توبچہ جمورا ایک ایسا کردار ہے جو مداری کی ڈگڈی پر ناچتا اور قلابازیاں لگاتاہے۔تاہم صحیح معنوں میں دیکھا جائے تومداری’’ بچہ جمورا‘‘ کے بغیر بے کار وادھورا ہے تماشا بین مداری کی باتوں پر اتنا انہماک نہیں دیتے جتنا کہ ’’ بچہ جمورا‘‘ کے دیے گئے مزاحیہ، فکاہیہ، طنزیہ جوابات پر نہ ہی اتناسراہتے ہیں جتنا بچہ جمورا کے جواب کو لائق تحسین خیال کرتے ہیں ۔گویا بچہ جمورا نہ ہو تو مداری کی چالاکیاں جملہ بازیاں سب بے کار، لوگ مداری کے لفظوں کے مدار میں محض ’’ بچہ جمورا‘‘ کے چبھتے طنزیہ جملوں کی وجہ سے گھومتے ہیں وگرنہ مجمع میں جمع سب افراد جانتے ہیں کہ مداری ہمارے ساتھ ڈرامہ کررہاہے۔ ویسے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایک مداری ایسا ضرور پایا جاتاہے جو دیگر افراد سے ڈرامہ بازیاں کرتاہے اور لوگوں کی کم عقلی یا مجبوریوں کی انتہاکہ ایسے افراد کے ’’ ڈرامے ‘‘ کے ہرکردار کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔
تاہم مداری اور ’’ معاشرتی ڈرامہ بازوں‘‘ میں فر ق صرف یہ ہے کہ مداری سب کے سامنے ایک مجمع میں سبھی کو بیوقوف بنالیتا ہے جبکہ معاشرتی ڈرامہ باز اس انداز سے لوگوں سے کھیلتے ہیں کہ کبھی کبھار تو گھر جاکر پتہ چلتاہے کہ میرے ساتھ ہاتھ ہوگیاہے ایسے ڈرامہ بازوں سے ہمارا معاشرہ بھراہواہے ، سیاسی، سماجی، ادبی، مذہبی ، تہذیبی کوئی بھی پہلو ایسے مداریوں اور ڈرامہ بازوں سے محفوظ نہیں ہے۔
چند مشہور بچے جمورے جو ہمارے اردگرد پائے جاتے ہیں ان کی اقسام اور افعال کچھ اس طرح سے سامنے آئے ہیں۔
مداری کا بچہ جمورا
مداری کے ساتھ ہر مجمع میں رہنے والے بچہ جمورا کا چنداں تذکرہ اوپر کردیا گیاہے تاہم چند باتیں جن کے بغیر مداری اور بچہ جمورا کا کردار سامنے آتا ہے وہ یہ بھی ہیں کہ مجمع میں جمع شدہ سو،دوسو افراد کو بے وقوف بنانے میں شاید مداری کا اتنا فعال کردارنہ ہوجتنا بچہ جمورا کا۔لوگوں کے خیالات اور جذبات سے اس طرح وہ کھیلتا ہے کہ لوگ مجبور ہوجاتے ہیں کہ ’’ جذبات دلانے ‘‘ والی دوائی(جو مداری کا اور مجمع کا منشاء ومدعاہوتاہے) مداری سے خرید ہی لی جائے وہ تو گھر جاکر پتہ چلتاہے کہ مداری جذبات سے کھیل کر کونین کی گولیاں ہمیں جذباتی کرکے ہمارے جذبات سے کھیل گیاہے آپ حضرات سے بھی گزارش ہے کہ ایسے مجمع میں اپنے جذبات پر کنٹرول رکھیں اور اسے اچھے وقتوں کے لیے بچاکر رکھیں۔انشاء اﷲ افزاش نسل کے کام آئیں گے۔
سیاسی بچہ جمورا
میر ے ملک میں جتنے بھی جمہوری وغیر جمہوری بچے جمورے پائے جاتے ہیں ان میں سب سے ہوشیار وچالاک اور لوگوں کی نفسیات سے کھیلنے والا ’’ بچہ جمورا‘‘ سیاسی بچہ جمورا ہے ۔ سیاسی بچہ جمورا میونسپلٹی سے پارلیمنٹ ہاؤس تک ہرجگہ آپ کو دستیاب ہوگا بس ایک بار آپ کا ان سے واسطہ پڑ گیا سمجھ لو آپ نے سیاسی جن پال لیا جو برباد کرکے بھی آباد نہیں ہوتا۔سیاسی بچہ جمورا کی پیدائش وافزائش کا مثالی وقت الیکشن کا زمانہ ہوتاہے کہ اسی دور میں انہیں پھلنے پھولنے کا بہترین ماحول میسر ہوتاہے۔
پروٹوکول ہو، اسمبلی اجلاس، پراجیکٹس کا افتتاح یا سیاسی دعوت یا عوام الناس کو بے وقوف بنانے کا کوئی پراجیکٹ ہو، سیاسی بچہ جمورا وہاں سیاستدانوں سے بھی قبل نظرآئے گا۔نظرنہیں آئے گا تواس وقت جب عوام کو ان سے کوئی کام ہو۔۔۔ میرا واسطہ ایک ایسے سیاسی بچہ جمورے سے بھی رہا جن کے حقیقی بچے اس کی بات نہیں سنتے مگر وہ پورا سیاسی ادارہ سنبھالے ہوئے ہیں بلکہ دور رواں میں تو میرے ملک کا بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ پورا ملک ہی یہی سیاسی بچہ جمورے چلارہے ہیں ۔ایسے بچہ جمورا کا کوئی خاص سیاسی نظریہ نہیں ہوتا جمہوری وآمرانہ طرز عمل ان کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتے ۔البتہ پائل کی جھنکار والی شاید انکا راہ روک سکے۔
دور جمہوری ہو تو جمہوریت سب سے بڑا انتقام ====جمہوریت زندہ باد
جمہوری اقدار کو پامال نہیں ہونے دیں گے جمہوریت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ان نعرہ بازیوں میں سیاسی بچہ جمورا ہی پیش پیش ہوتاہے۔ملک میں مارشل لاء کا ڈنڈا بلند ہوا تو ایک قلابازی لگائی تو آمریت زند ہ باد ، جمہوریت مردہ باد بھی یہی بچہ جمورا لگاتا ہوا نظرآئے گا۔ ایک پنجابی اتنے ’’ لاچے ‘‘ سندھی ’’ ٹوپیاں‘‘ بلوچی ’’ سمدھیاں ‘‘ اور پختون پٹکے نہیں بدلتا جتنا سیاسی بچہ جمورا پارٹیاں بدلتاہے۔
سیکرٹری اور بھی بچہ جمورا کی قسم جدید ہے فرق اتنا ہے کہ مداری کا بچہ جمورا سڑک ، چوراہوں پہ سادہ لوح افراد کو بیوقوف بناتاہے جبکہ ماڈرن بچہ جمورا اور سیکرٹری) پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں کو ایسے بے وقوف بنالیتاہے جیسے پچھلے سترسال سے ہمارے سیاستدان عوام کو بنارہے ہیں۔
ادبی بچہ جمورا
یہ قدرے جدید اختراع ہے یا یوں کہہ لیں کہ یہ بچہ جتنا عصر رواں میں کھل کے سامنے آیا پہلے شاید نہیں تھا۔ بوجوہ کہ اب شاعر اپنا ذاتی ادبی بچہ جمورا اپنے نان ونفقہ پر پالنے، ذاتی غزلیں ان کے نام کرکے مشاعرہ پڑھوانے کو جدید ادبی فیشن اور ادبی برتری خیال کرتاہے،یقین کے لیے کسی بھی عالمی مشاعرہ میں ہر بڑے شاعر کے ساتھ دم چھلا کی طرح اس کی دم پکڑے پاؤں کے نشان پر اپنا پاؤں رکھے بھیڑوں کی سی اقتدا جیسے چل رہا ہو سمجھ لو یہی ادبی بچہ جموراہے۔ ادبی بچہ جمورا اپنا تعلق ادب سے نہیں شاعر سے جوڑتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتاہے کہ شاعر کا ادب ہی اصل ادب ہے کہ ادبی محافل میں شمولیت کے تمام راستے اسی زینہ پر چڑھ کر حاصل ہوتے ہیں ایک بار پھر یقین نہ آئے تو کسی بھی عالمی مشاعرہ میں شمولیت سے بہ نفس نفیس ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ کل کے ادبی بچے جمورے آج کی ادبی سرکڑھویں، شخصیت اور ناظم مشاعرہ ہیں۔
مذہبی وتعلیمی بچہ جمورا
مذہبی بچے جمورے دوطرح کے ہوتے ہیں ایک نام نہاد کم تعلیم یافتہ علما کرام کے ساتھ نیم حکیمانہ شکل کے مذہبی مداری بچے جوہر وقت ساتھ ساتھ نتھی ہوئے ہوتے ہیں۔
دوسرے جعلی ڈبہ پیر کے ساتھ مہر شدہ تعویذات کا جزدان اٹھائے پیر صاحب کے ساتھ ساتھ یوں خراماں انداز ہوتے ہیں جیسے اونٹنی کے ساتھ اس کا بھوکا بچہ۔۔۔۔۔۔ سلطان باہو نے شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ
جتھے ویکھن چنگا چوکھا اوتھے پڑھن سوائی ہو
بچہ جمورا رکھنے کا فیشن اس قدر بڑھ گیاہے کہ اب تعلیمی اداروں میں بھی انتظامیہ دوایک بچہ جمورا رکھتے ہیں ۔ایسے بچے دوران ڈیوٹی کان اور آنکھیں کھلی رکھتے ہیں تاکہ دوسروں کی ڈیوٹی پر نظر رکھ سکیں۔تعلیمی بچے جمورے کلاس میں کم پرنسپل کے دفتر اور گاڑی کے اردگرد زیادہ نظرآئیں گے۔یہ ہمیشہ وہیں پائے جاتے ہیں جہاں انتظامیہ پائی جاتی ہے۔
جتنا نقصان وطن عزیز نے ان مداریوں اور بچہ جموروں سے اٹھایاہے شائد اتنا نقصان بیرونی خطرات سے نہ اٹھایا ہوا ۔خدا محفوظ رکھے ان مداریوں اور بچہ جموروں سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں