53

اللہ کرے بارش نہ رکے :: روحان اے طاہر

پاپا جانے دیں نا…میں نے ایک بار منع کیا ہے نا آپکو …رکو یہاں ، نہیں جانا۔ ابھی بارش رکتی ہے تو گھر چلیں گے اور آئیندہ میں آپکو اپنے ساتھ لے کر نہیں آؤ ں گا۔ بہت تنگ کیا آپ نے آج پاپا کو۔پاپا… پاپا… پاپا بولیں نا ….نا راض ہیں؟ میں نے تنگ تو نہیں کیا آپکو ۔ میں تو صرف بارش میں نہانے کا بول رہی تھی ۔ مجھے رستے میں بھی بہت تنگ کیا ہے آپ نے ،چھتری سے بار بار ہاتھ باہر نکالتی تھی ، کتنی بار پاپا نے منع کیا آپ نہیں ہوئی ۔ پاپا سوری ۔آئیندہ میں آپکو تنگ نہیں کروں گی ۔ آپ مجھے اپنے ساتھ لے کر آیا کریں گے نا؟ اگلی بار دیکھیں گے ۔ ابھی دعا کرو بارش رک جائے۔ پاپا….بارش رک جائے؟ آپکو بارش اچھی نہیں لگتی کیا؟ کیوں نہیں اچھی لگتی …. بیٹا بارش رکے گی تو ہم گھر جائیں گے نا۔ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیااور اس کی معصوم سی بیٹی بھی خاموشی سے پاپا کا ہاتھ تھامے بارش کا نظارہ کرتی رہی ۔ بارش تیز ہو رہی تھی اس لیے ایک شیڈ کے نیچے میں کھڑا ہو ا تھااور ساتھ ہی ساتھ اور لوگ بھی جمع ہوتے گئے۔ میں بھی خاموشی سے کھڑا بارش کے رکنے کا انتظار کر رہا تھا۔ چونکہ پا س ہی وہ معصوم بچی بھی اپنے پاپا کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی اور معصومانہ انداز سے بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ میں نے ایک نظراپنے ارد گرد کھڑے لوگوں کو دیکھا ۔ سب کے سب بارش کے ختم ہونے کا انتظا ر کر رہے تھے سوائے اس بچی کے جو اپنے پاپا کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی اور دھیمی دھیمی آواز سے کہہ رہی تھی کہ اللہ کرے بارش نہ رکے ، اور بارش ہو اور بارش ہو۔ ہم یہاں ہی کھڑے رہیں ۔ اتنا مزا آرہا ہے۔میں اس بچی کی خوشی کا اندازہ تو نہیں لگا سکا جو اسے بارش دیکھ کے مل رہی تھی لیکن اس کے الفاظ نے مجھے میری سوچ کے سمندر میں ڈبو دیا ۔ایک طرف تو مجھے اس کی معصومیت پہ پیار آیا لیکن دوسری طرف میں ان تمام لوگوں اور اس بچی کی سوچ پر حیران تھا کہ آخر کیا بات ہے ۔ سب کےسب بارش کے رکنے کا انتظار کر رہے ہیں اور بچی دعا مانگ رہی ہے کہ بارش اور ہو۔ تب میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ بارش تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور بچی تو اللہ کی رحمت مانگ رہی ہے کہ اے خدا اپنی رحمت اور برسا ، اور برسا او ر شاید یہی وجہ تھی کہ باپ نے چھتری سے خود کو ڈھانپ لیا اور بیٹی کو بھی ،لیکن وہ معصوم بچی پھر بھی ہاتھ باہر نکال کر خدا کی رحمت کو دیکھتی رہی، اور اس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ جب اس نے خدا کی رحمت میں بھیگنا چاہا تو اس کے باپ نے اسے منع کر دیا۔ ہم حقیقت میں اس واقع سے کچھ بھی دور نہیں ہیں ۔ خدا کی رحمت سے ہم لوگ خود محروم ہیں ۔ خدا تو اپنی رحمت اس قدر برساتا ہے کہ انسان اگر اس میں چند سیکنڈ یاچند منٹ رُکا رہے تو وہ بھیگ جائے۔اس کے باوجود بھی ہم میں سے اکثریت خدا کی رحمت سے محروم رہتی ہے ۔ ہم گمراہی ، غفلت ، پراگندگی ، اور مایوسیوں کا لحاف اوڑھے ہوئے خدا سے اس کی رحمت مانگتے ہیں ۔ جبکہ ہم یہ سب لحاف اتار کر اس سے کبھی اسکی رحمت کے طلبگا ر نہیں ہوئے ۔ اگر ایسا ہو تو ہما ری ، ہمارے گھروں کی ، ہمارے معاشرے کی پاکیزگی ہمیں کیوں نہ نظر آئے ۔ غفلت کے لحافوں میں سوئے پڑے ہم خدا سے اسکی رحمت ، اسکا فضل تو مانگتے ہیں لیکن ہم وہ لحاف اتارنا نہیں چاہتے ۔ ہم بھیگنا نہیں چاہتے ۔ ہم خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن ہم کبھی اس سے اسی کو نہیں مانگتے ۔ اس کے دربار میں ہم اور ہر چیز، ہر ضرورت کا ذکر تو گڑ گڑا کر کر دیتے ہیں لیکن کبھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ وہ ہم سے ناراض ہے یا ہم سے خوش ہے۔ لیکن وہ رب کائنات جس کی صفتوں کا شمار نہیں ہمیں ہمارے لحافوں میں بھی اس قدر اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے کہ ہم یہی بھول جاتے ہیں کہ ہم پراگندگی کے لحا فوں میں ہیں۔ بارش کچھ آہستا ہوئی تو سب لوگ وہاں سے چلے گئے ۔ وہ بچی بھی۔ لیکن سب کے چہرے پر خوشی کی لہر تھی او ر وہ بچی کے چہرے پر اداسی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں