60

ایک بے باک لیڈر کی امید ………نثار بلوچ :: تحریر :ابوذر غفاری

نثار شر بلوچ کی پیدائش 15 جنوری 1977 کو گوٹھ امداد علی شر بلوچ میں ہوئی اور سندھ کے تاریخی شہر ٹھری میرواہ میں حاجی احمد بخش شر بلوچ کے گھر میں جنم لیا مقامی سرکاری گورنمنٹ پرائمری اسکول امداد علی شر بلوچ میں حاصل کی  میٹرک کی تعلیم گورنمنٹ ھاء اسکول مینگھو فقیر شر بلوچ میں حاصل کرنے بعد ٹھری میرواہ شہر کے گورنمنٹ سائنس کالج سے باوریں پاس کی اور گریجوئشن شاہ عبدلطیف یونیورسٹی خیرپور سے مکمل کی اور ایک آس اور لگن کی امید طرف گامزن ہوا اور زندگی نے سادتھ دینا آدھے راست میں چھوڑ دیا

نثار شر بلوچ کو بچپن سے ہی سیاست کا شوق ذوق ہوا کرتا  تھا اپنے والد کے ساتھ اکثر سیاسی سماجی پروگراموں میں جایا کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ 1988 سے سیاسی ہلچل اپنے ابو کے ساتھ جانا شروع کردیا

نثار بلوچ طبیعتن بہت سادہ اور پرسنلیٹی خوبصورت اور لہجہ نرم محبت پسند شخصیت کا حامل تھا اور امیر غریب سب کے ساتھ ہاتھ جوڑنے

والی عادات رکھنے والی شخصیت تھا اور اس

نوجوان لیڈر نثار کی ایسی کیا خصوصیت تھی جو لوگ اس کے فین بن چکے تھے ??

جی بلکل یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہن میں اب بھی ابھرتا ہے اور مجھ سے دوست احباب اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی یہ ہی سوال کرنے پر آتے ہیں یہ نثار نوجوان کہاں کا تھا کیا کرتا تھا اور لوگ بچے بوڑھے اس کے فین کیوں بن چکے  تھے ???

میرا ایک ہی جواب ہوتا تھا بھائی نثار نوجوانوں کی دل کی آواز تھا , نثار نوجوانوں کی وقار تھا,  نثار محبت سے سرشار شخصیت و کردار کا نام تھا , نثار حوصلہ تھا , نثار جنون تھا , نثار آگھی تھا ,  نثار روشنی تھا,  نثار فلسفہ تھا,  نثار منطق تھا , نثار یوتھ کا نام ہے,  اب آپ ہی سب پڑھنے والے سمجھ چکے ہونگے , کہ نثار ایک ابھرتی ہوئی تلوار کا نام تھا ایک انقلاب لانے والی شخصیت بن چکا تھا جو لوگوں امیر غریب چھوٹے بڑے سب سے ہاتھ ملاکر ہلکی مسکراہٹ کرنے والی انمول شخصیت بن چکی تھی

نثار کا تعلق ٹھری میرواہ سے سات کلو میٹر دور ایک گاوں  جہاں سے ابھرا ہوا ستارہ تھا

جس کا مشن یہ تھا کہ نہ مجھے دہن چاہئے نہ مجھے دولت سے سروکار ہے نہ ہی مجھے مشھوری یا شہرت چاہئے

مجھے اپنے لوگوں کو سہارا دینا ہے اور دیکر رہوں گا اور پیری مریدی کلچر کو کچلوں گا اور موروثی سیاست کو جڑ سے اکھاڑوں گا وڈیرا شاہی کو نیست و نابود کرونگا نوجوانوں میں حوصلہ ولولہ پیدا کرونگا جوش جنون پیدا کرونگا اور ایک مقام دینا ہے ہے اپنے لوگوں کو

چند دن پہلے ایک تقریر میں مرحوم نثار بلوچ نے کہا کہ ایک تم لوگوں نے اقتدار میں آکر کیا فائدہ عوام کو دیا کون سی ترقی کروائی جب کہ ڈیڑھ کڑوڑ کی ماہوار بجٹ ملتی ہے تحصیل ہیڈ کوارٹر کو اس سے اگر تیس لاکھ بھی خرچ کئے جائے تو شہر جنت کا خیال بن سکتا ہے خوبصورت ہو سکتا ہے پھر بھی وہ خیالی حالات اور ہی حکمران وہ ہی لوگ کب بدلو گے اپنے آپ کو زرا سوچیں آگے رب کائنات کو جواب دینا ہے

نثار بلوچ کا تعلق شر بلوچ کمیونٹی سے تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی ای بطور الکشن 2018 کے لئے منتخب ہو چکے تھے اور حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ضلع کاونسل کے ممبر بھی تھے اور سندھ کاونسل پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر بھی تھے لوگوں کی بھاری تعداد اس نوجوان نثار پر بھروسہ کرتی تھی اور خوبصورت قدامت رکھنے والی نوجوان قیادت کا لیڈر بن چکا تھا اور اس کے پیچھے دو بیٹیاں ہیں جو اب بھی اپنے ابو کو یاد کرکے پاپا کرتی رہتی ہیں اور ماں جھوٹے دلاسے دیتی رہتی ہیں ابو آئیگا

افسوس کہ 28 جون 2017 کو ایس ایم ایس آنا شروع ہوگئے کہ نثار بھائی اب ہمارے ساتھ نہیں رہی وہ بات آگ کی طرح پہل گئی اور ہر گھر سے ماتم کی آوازیں آنا شروع ہوگئی جب میں نثار بھائی کی میت اوف چہرہ دیکھنے کے لئے وہاں پہنچا تو ایک عمر رسیدہ خاتون جو دور کی رہنے والی تھی اور اپنے سینے پر ہاتھ مار کر گریہ کرتی ہوئی یہ کہہ کر آگے جا رہی تھی میرے مولا نثار کو کیوں جلدی بلایا وہ تو تیری مخلوق سے پیار کرنے والا بندہ تھا اور جو لوگ عوام کا خون چوس رہے ہیں وہ سکون سے …………

برحال اب دیکھتے ہیں نثار بلوچ کے مشن میں ہاتھ اور آگے چلنے والا کون ہوگا ???

اور اب جو بھی اس قیادت کو سنبھالے گا یقینا اس کو بھاری اکثریت سے عوام تعاون کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں