53

سندھ میں سیاسی ہلچل اور تبدیلی کے نعرے :: تحریر:ابوذر غفاری خیرپور میرس

جو آگ اہل سیاست لگا رہے ہیں بھلا

اپنے گھروں کو کب تک بچا رکھیں گے

سندھ میں متحرک سیاسی پارٹیوں اور ان کے کمپئن روزانہ کیطرح آہستہ آہستہ تیز تر ہوتی جا رہی ہے اور عوام پہلے کی طرح بیوقوف بننے جا رہی ہے اور جو سیاسی رہنما . لوگوں کے ساتھ میل جول نہیں کرتے تھے ان  پانچ سالوں میں اب  وہ عوام  کے  بیچ نظر آنا شروع ہو چکے ہیں اور الیکشن قریب آتے ہی چہل مہل میں لگ گئے ہیں اور تعزیتی پروگروام بڑے فخر سے اٹینڈ کر رہے ہیں بڑے محبت اور پیار سے عوام کے ساتھ پیش آرہے ہیں کاش ایسا مسلسل کی بنیاد پر ہوتا یہ بات ویسے معمول بن چکی ہے ہے عوام اور رہنماوں کے درمیان
خیر یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ رہنماوں کو عوام کی تو یاد نہیں آئی جو ووٹر وفات پا چکے تھے ان کی ہمدردی جتانے کو فروغ میں لگے ہوئے ہیں اور عوام ووٹ دیتی آ رہی ہے اور سیاسی لوگ جیتے آ رہے ہیں بس بدنام ہو ہے تو سوشل میڈیا  اس بات پر زیادہ تبصرہ نہیں کریں گے وہ اس لئے کہ عوام کو سمجھنے والے لیڈر نہیں ملے ہیں اور نہ ہی پاکستانی لیڈر کو سمجھنے والی عوام …..

سوشل میڈیا پر کچھ زیادہ ہی سیاسی لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بات چپ رہنے کا نام ہی نہیں لے رہی دھڑا دھڑ فیصلے کئے جا رہے ہیں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور تبصرے کئے جا رہے ہیں
اہم بات یہ ہے کہ جو لوگ ایک دوسرے کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر دہماکے دار اسٹیٹس دے رہے ہیں ان میں سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے مستفید ہو چکے ہیں اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے بعد اپنے حزب اختلاف کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ روش تیزی سے جاری ہے
کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ونگ کے اراکین کو گرفتار بھی کروایا تھا اور بعد میں ان کو رہا بھی کروایا دیا بات وہاں تک ختم نہیں ہوئی یہ چیز زور پکڑتی گئی اور سندھ  میں داخل ہوگئی
پنجاب اور کے پی کے میں سوشل میڈیا کی کمپئن زور شور سے جاری تھی لیکن وفاقی وزیر کے سخت احکامات کے باعث کچھ کم ہوئی ہے لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے پر کسی قسم کی نرمی برداشت نہیں کر رہے کمنٹ کے اوپر کمنٹ شئیر زیادہ ہو رہے ہیں اور اس سے بڑا فرق دیکھنے کو ملا ہے جو پہلے دور میں الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا کا زور ہوا کرتا تھا اور اب ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا دنیا میں اس وقت پہلے نمبر پر ہے اور اس کی جگہ وہیں کھڑی ہے
سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ آیا پاکستانی سیاست پر سوشل میڈیا سے فرق پڑے گا کہ نہیں ?
ایک سروے کے مطابق سوشل میڈیا سب سے زیادہ دیکھی جانے والے پڑھنے والی میڈیا بن چکا ہے
کیوںکہ سوشل میڈیا پر ہر قسم کے لوگ موجود ہوتے ہیں چاہے امیر ہو غریب ہو جرنلسٹ ہو سیاسی رہنما ہو یا سیاسی و سماجی ورکر ہو شوبز والے افراد ہوں سب کا ہجوم لگا رہتا ہے اگر کسی قسم کی کوئی چھوٹی ہو بڑی بات سب سے سوشل میڈیا پر ہی وائرل ہوتی ہے اور سب سے پہلے سوشل میڈیا پر ہی وئرل ہوتی ہے
خاص مقصد پر آتے ہیں کہ اس وقت جو سلسلہ کا آغاز ہو چکا ہے وہ ہے کہ اس انتخابات میں کون جیتے گا اور کون ایوانوں سے باہر بیٹھے گا
پاکستان کی ترقی و فلاح کے حوالے سے سیاسی پارٹیوں نے کوئی خاص تبدیلی نہیں کی بلکہ باتوں تک محدود رہے اور اب روزانہ کی بنیاد پر میل جول کرنا شروع کر دی ہے دیکھیتے ہیں کون گیند کو پکڑتا ہے
میرے اس مختصر سے مضمون کا مقصد یہ تھا کہ سندھ کے سیاسی نقشے میں تبدیلی ممکن ہوگی کہ نہیں اور تبدیلی کے نعرے لگانے والے تبدیلی کیسے کریں گے کیونکہ عوام کا اعتماد پہلے والا نہیں رہا اور نہ ہی دیکھنے میں آیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں