63

سندھ سے انقلاب کی ابتدا اور عوامی راج :: تحریر:ابوذر غفاری خیرپور میرس

چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر
اژدھامِ انساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے

سندھ بھر سے نوجوانوں کی اٹھتی ہوئی انقلابی مہم روزانہ کسی نہ کسی شکل میں نظر آرہی ہے کبھی سوشل میڈیا پر تو کبھی اخبارات میں لیکن ایک بات سوچنے کو ہے الیکٹرانک میڈیا نوجوانوں کے اس انقلابی آواز کو بہت ہی کم دکھا رہی ہے اس کی وجہ یہ محسوس ہو رہی ہے کہ اینکر پرسن اور ٹی وی مالکان پاکستان کے اس تازہ صورتحال سے اور اس کے ساتھ سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے ان کو اپنے ہاتھوں اور جیبوں میں رکھے ہوئے نظر آتے ہیں یہ سلسلہ آج کا تو نہیں لیکن پہلے کافی عرصے سے چلا آتا رہا ہے …….
اب جیسے ہم لوگ آھستہ آھستہ دیکھ کر محسوس کرنے ہیں انقلاب لانے میں بہت سے تکالیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے لیکن اس سائنسی اور جدید دور کو دیکھتے ہوئے انقلاب اپنا رویہ ہی تبدیل کرنے لگا ہے
آتے ہیں اپنے مقصد کی بات پر سندھ بھر میں نوجوانوں میں پانے والی مایوسی کی لہر کرپشن جیسی بیماری فراڈ اور جہاں نوکریاں بک رہی ہوں وہاں مسلسل وڈیرا شاہی کا تسلسل بڑھ چڑھ رہا ہو اور ایک ہی طبقے کے لوگ پڑھے لکھے نوجوان نسلوں پر قابض ہوں اور تعلیم کے تقدس کو میرٹ کو ہنر کو ٹیلینٹ کو جنون کو مایوس کن کیا گیا ہو اور صبر کی تلقین ملتی رہے تو وہاں نوجوان نسل کیسے اپنا تعین کر سکتی ہے نوجوان نسل صرف اب اس چلتی صورتحال سے مایوس کن ہوکر کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو رہی اپنے اظہار کی آزادی سوشل میڈیا پر ظاہر کر رہے ہیں
ایک نوجوان جس کا نام ہے قادر چانڈیو جس نے اسی سال ایک نوجوانوں میں بیداری کا آغاز کیا ہے اور مسلسل چل رہا ہے اس نوجوان قادر چانڈیو کی صلاحیت اور ولولہ کو سلام جس نوجوان نے یونیوسٹیز کے طلبہ اور طالبات اور شہری دیہتاوں کے لوگوں کو شعور دینے کی ممکن کوشش کی اور کر رہا ہے اور سندھ کی وڈیرہ شاہی نے مسلسل ہراسان کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اپنے لوگوں کو اجاگر کرنے میں بھرپور کوشش جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے انشا اللہ اس نوجوان قادر چانڈیو کے حوالے سے بہت سے واقعات جلد آپ سب کے سامنے لاوں گا تاکہ جو چیز اور جس طرح سے یہ سلسلہ پہلی بار اٹھتا ہوا نظر آ رہا ہے ہے سمجھ سکتا ہوں کہ بہتر زاوے کی طرف جائیگا اس کے ساتھ ایک مضمون کا حوالہ بھی ایڈ کرتا چلوں ………..

ڈاکٹر طاہر منصور قا ضی کے لکھے گئے اس مضمون کے چند اقتاباسات بھی آپ کے سامنے پیش نظر کر رہا ہوں ایک طرف انقلاب کی باتیں بہت ہی عمدہ نظر آر ہی ہیں

زیر نظر مضمون 14 جولائی 1789 کے انقلاب فرانس کے تناظر میں قلم بند کیا گیا ہے۔

چودہ14 جولائی 1789 کو انقلاب فرانس کا نقارہ بجا۔ انقلابِ فرانس کو سوا دو صدیوں سے بھی زیادہ زمانہ گزر چکا ہے مگر اس انقلاب کی باز گشت ابھی تک فضاؤں میں ہے۔یورپ میں اس انقلاب کے دور رس نتائج ظاہر ہو ئے۔ بساطِ عالم اس انقلاب نے ثابت کیا کہ روشن خیالی کا فلسفہ سماج کے تاریخی جبر کا دھارا بدل سکتا ہے اور پھر انقلاب کے چند ہی سالوں کے اندر انتظامی پالیسی کی سطح پر انقلابی اصلاحات کو پا بہ زنجیر کیا گیا۔ اس کا ذکر آخر میں آئے گا۔

ان حوادث و واقعات کے ساتھ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ جب سوا دو سو سال گزرنے کے بعد بھی فرانس کے انقلاب کی داستان تازہ ہے تو ہمیں واقعات کی ترتیب سے زیادہ ان تفصیلات کی ضرورت ہے جن سے انقلاب کی ماہیت کو سمجھنے میں مدد ملے اور مستقبل کے لئے انقلاباتِ زمانہ کا مطالعہ فکر انگیز ہو سکے۔

انقلابِ فرانس کو بھی شیکسپیئر کے ڈرامے کی طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ جس میں ہر موڑ پر ڈرامے کے اندر سے ہی ایک نئی کہانی پھوٹتی ہے اور انقلاب کے کسی بھی مرحلے پر کوئی اتفاقی واقعہ یا حادثہ انقلاب کی کوئی ایسی راہ متعین کر سکتا تھا جس کے نتیجے میں فرانس یا دنیا کی تاریخ آج کی تاریخ سے بالکل مختلف ہوتی۔

تاریخ کے اس پہلو دار اور اہم انقلاب کے اسباب اٹھارویں صدی کے اواخر میں کچھ اِس طرح سے یکجا ہوئے کہ وہ دانشور جو تاریخ کو آئیدیالوجی کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کی بات میں ایک سچائی ضرور ہے مگر انقلاب کی تصویر ادھوری رہتی ہے۔ اور وہ دانشور جو مادی اور سماجی اسباب سے انقلابِ فرانس کی توجیح کرتے ہیں اُن کے دلائل سے بھی صرفِ نظر مشکل ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کوئی آئیڈیالوجی اپنی ذات میں طاقت صرف اس وقت بنتی جب وہ اپنی قوت سماج کے اندر ظاہر کر سکے۔ آئیڈیالوجی کو سماجی قوت بننے کے لیے تاریخ اور معاشرے کے کن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی تفصیل کبھی پھر سہی مگر ہمارے بہت سے دانشور شاید وِل ڈیورنٹ کی کتاب “روسو اور انقلاب” کے عنوان سے اتنے زیادہ متاثر ہیں کہ وہ روسو کے نظریات کو یا صرف نظریاتی سوجھ بوجھ کو ہی انقلاب کی پہلی اور آخری وجہ گردانتے ہیں۔ یہ بات تاثراتی خام خیالی ہے اور تاریخی دلیل کے پیمانے پر تو کسی طور پوری نہیں اترتی۔

بات انقلابِ فرانس کی ہو، روسی یا ایرانی انقلاب کی، ان سب کے مطالعے سے واضح ہے کہ انقلاب کے دورانیے میں جو بہت سے موڑ آتے ہیں۔ ان پر آئیڈلوجی اپنی شکل اس قدر بدلتی ہے کہ اگلے موڑ پر کبھی تو بالکل ہی مختلف ہو جاتی ہے۔ ایک موڑ پر کوئی ایک اور دوسرے پر کوئی اور آئیڈیالوجی زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

میں نے ابھی کہا ہے “انقلاب کا دورانیہ” ۔ یہ ایک بنیادی بات ہے جو انقلاب کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ سماجی انقلاب کوئی ایک واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک عرصے پر محیط واقعات کی ایک لڑی ہوتی ہے جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔

۔1۔ اسبابِ انقلاب

۔2۔ انقلابی سر گرمی یا جنون

۔3۔ انقلاب کے نتائج

عام طور پر تاریخ دان انقلابِ فرانس کو 1789 سے 1799 کے دس سالہ دورانیے پر بیان کرتے ہیں مگر کئی معتبر تاریخ دان اس پر متفق نہیں۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ انقلاب فرانس کے پیچھے یا اس سے پہلے اسباب کی ایک لمبی لسٹ ایک عرصے پر محیط تھی۔ انقلابِ فرانس کو سمجھنے کے لئے 1789 میں فرانس کی سوسائٹی کو ایک نظر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اُس وقت فرانس کی سوسائٹی میں تین کلاسیں تھیں جنہیں “اسٹیٹ” کہا جاتا تھا۔ پہلی اسٹیٹ پادری یا چرچ تھی۔ ان کے پاس فرانس کی 10 فیصد زمین تھی۔ ان کے پاس عام آدمی کی دو وقت کی روٹی تک کا استحصال کرنے کے لئے مختلف اقسام کے ٹیکس لگانے کی اجازت بادشاہ کی طرف سے مرحمت کی گئی تھی۔ پادری ان اختیارات کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔

یاد رہے کہ بادشاہ لوئی (16) کے زمانے میں پورے فرانس میں ایک بھی “بِشپ” ایسا نہیں تھا جو عوام میں سے چرچ کے اس اعلیٰ عہدے پہ فائز ہوا ہو۔ تمام کے تمام بِشپ اشرافیہ سے آئے تھے۔

دوسری اسٹیٹ فیوڈل اشرافیہ تھے۔ اشرافیہ اور پادری دونوں ملا کر آبادی کا تین فیصد تھے اور ان کے ہاتھوں میں فرانس کے 45 فیصد زرعی وسائل تھے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ تیسری اسٹیٹ پر جو کہ 97 فیصد عوام پر مشتمل تھی، اُن پر ٹیکس، عشرہ، ٹیتھ، کرایہ تقریبا” پندرہ قسم کے ٹیکس نہ صرف عائد کر سکتے تھے بلکہ ان کی بازیابی کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے بھی استعمال کر سکتے تھے۔

تیسری اسٹیٹ کے عوام کو تین حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے:۔

بوژوا — جن میں تاجر‘ ڈاکٹر، وکیل اور دیگر پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے لوگ تھے۔ دوسرے گروپ کو “سانس کُولات کہا جاتا ہے۔ یہ شہری ورکرز تھے جنہوں نے انقلاب برپا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اسی گروپ نے بعد میں انقلاب کی تشدد آمیز کاروائیوں میں بہت بڑا حصہ لیا۔ تیسرے گروپ میں عام کاشت کار تھے جن کے پاس فرانس کی زمین کا قریبا” 55 فیصد حصہ تھا مگر یہ سب لوگ ٹیکس کے نظام بری طرح جکڑے ہوئے تھے اور جب بھی فصل خراب ہوتی یہ لوگ سستے مزدورں کے طور پر شہروں کا رخ کرتے۔ اگر خوش قسمتی سے ان لوگوں کو کوئی کام مل جاتا تو ان کے لئے چار دن اور جینے کا سہارا ہو جاتا۔

اس نظام کے اندر امراء کی آسائشوں اور عیاشیوں کے بعد جو پیسہ حکومتی اخراجات کے لئیے بچتا وہ آہستہ آہستہ کم سے کم تر ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ 1786 میں حکومت کا دیوالیہ نکلنے والا تھا۔ مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ وزیرِ خزانہ کیلون کو دیوالیہ پن کی بری خبر بہ امرِ مجبوری بادشاہ کے گوش گزار کرنی ہی پڑی۔

فرانسیسی خزانہ خالی ہونے میں جہاں امراء کی عیاشیوں کی ایک لمبی فہرست ہے وہیں یورپی جنگوں میں فرانس کی مداخلت کا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے جس سے خزا نے پہ اضافی بوجھ پڑا ۔ انسانی تاریخ میں ماسوائے چند جنگوں کے یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ و جدل مالی منافع کے لئے ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ فتح سے ہمکنار ہو جائے۔

اس تناظر میں جب خزانہ خالی ہو گیا تو تینوں اسٹیٹوں کے خصوصی نمائندگان کی کانفرنس بلائی گئی تا کہ نظام کی اصلاح کی جا سکے۔ 1787 میں بلائی گئی یہ کانفرنس بری طرح سے ناکام ہوئی کیونکہ وزیر خزانہ امراء اور اشرافیہ کی دولت پر ٹیکس لگانا چاہتا تھا۔ تیسری اسٹیٹ کے تمام عوام اس تجویز کے حق میں تھے جبکہ فیوڈل اشرافیہ اور چرچ دونوں کو ٹیکس دینا نامنظور تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ فیوڈل امراء کی زمینوں اور غرباء کے چھوٹے چھوٹے رقبوں پر بھی ٹیکس عائد کرنا چاہتا تھا ۔ اس خیال کو تینوں کلاسوں نے مسترد کر دیا۔ اس کانفرنس کے بعد وزیرِ خزانہ کیلون کو بر طرف کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔

نئے آنے والے وزیر خزانہ کے ایماء پر اکٹھی ہونے والی اسمبلیاں بھی بے نتیجہ رہیں۔ بالآخر 3 مئی 1789 کو تمام اسٹیٹ نمائندوں کو “جنرل اسمبلی” میں ایک بار پھر اکٹھا کیا گیا۔ یہاں فرانس کے قومی نظام میں اصلاحات کے بارے میں فیوڈل اشرافیہ اور چرچ کا رویہ تو ایک طرف رہا ‘ صرف اس بات پر بھی اتفاق نہ ہو سکا کہ ووٹ کی نوعیت کیا ہو گی۔ تیسری اسٹیٹ کے نمائندے جو تعداد میں 1200 کے قریب تھے، جمہوری گنتی کے حق میں تھے جبکہ جاگیردار اور چرچ ایک اسٹیٹ ایک ووٹ کا اصول منوانے پر مصر تھے جس سے وہ دونوں مل کر تیسری اسٹیٹ یا عوام کے اوپر اپنی مرضی لاگو کر سکتے تھے۔ یہ کانفرنس اور اسی طرح کی دیگر کانفرنسوں کی ناکامی نے عوام اور اس کے نمائندوں کو اصلاحات کی بجا ئے انقلابی بغاوت کی طرف مجبور کر دیا۔

تیسری اسٹیٹ کے عوامی نمائندوں نے مجبورا” شاہ لوئی (16) کے ٹینس کورٹ کو اسمبلی کی جگہ قرار دیا کیونکہ انہیں اسمبلی کی اصل عمارت سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ بادشاہ کے ٹینس کورٹ میں انہوں نے خود کو عوامی اور قومی اسمبلی قرار دیا اور فرانس کو ایک نیا آئین دینے کا حلف بھی اٹھایا۔ واضح رہے کہ اس اسمبلی میں جاگیرداروں یا چرچ کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔

پیرس میں ایک چھوٹا سا قلعہ جس کا نام “بستیل” تھا وہاں صرف سات قیدی اور ایک اسلحہ خانہ تھا۔ 14 جولائی 1789 کو پیرس کے تاجروں اور عوام نے اس پر حملہ کر کے قیدی رہا کروا لئے اور اسلحہ لوٹ لیا۔ اس طرح 14 جولائی کا دن تاریخ دانوں کے نزدیک انقلابِ فرانس کی صبحِ اوّلیں قرار پایا بے شک کہ انقلابی صورتِ حال اس سے بہت پہلے مختلف شکلوں میں موجود تھی۔

سو انقلابی بغاوت کا وہ سلسلہ جو بستیل کے قلعے پر حملے سے شروع ہوا نہایت سرعت کے ساتھ ہر کوچہ و بازار میں پھیل گیا۔ تاجر پیشہ اور کایگروں نے شہروں میں اور کسانوں نے دیہاتوں میں انقلاب کا پرچم بلند کر دیا۔ عوام نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، زرعی زمینوں سے جاگیرداروں اور مالکان کو بے دخل کر دیا اور چرچ سے بھی زمینیں چھیننا شروع کر دیں۔ مگر وہ بات، بعد میں جس کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجا وہ انسانی حقوق کی پاسداری کا نقطہَ نظر تھا جو فرانسیسی انقلاب کے ابتدائی دنوں کی دین ہے

انشا اللہ جلد مکمل حوالہ آپ کے سامنے ابھرتی ہوئی طاقت قادر چانڈیو جو اس وقت سندھ کے نوجوان قیادت کی آنکھوں میں سما ہوا ہے وہ امید کی کرن لے کر ایک فرانسی انقلاب کا طرز اپنانے میں لگا ہوا ہے دیکھتیں ہیں کس طرف ہوا کا جھونکا پلٹتا ہے
اور قادر چانڈیو نوجوانوں کی کتنی امیدوں پر پورے اترتے ہیں اسی موضوع کے حوالے جلد ندائے نو پر حاضر ہوں گے وسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں