76

سندھ میں ووٹرز کی اہمیت اور وڈیرا شاہی:: ابوذر غفاری

محسوس ایسا ہو رہا ہے کہ پاکستان میں قبر کی سیاست ہو رہی ہے
ووٹرس کی کوئی اہمیت نہیں رہی اور ہر آئے دن اخلاقی حوالے سے کوئی نہ کوئی غریب عوام پر خوفناک حملہ کرتا رہتا ہے کبھی کوئی عوام کو للکار رہا ہے تو کوئی دھمکی دے رہا ہے تو کوئی جتا رہا ہے
عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف ابھی تک نہیں ملا ، ملا ہے تو بیروزگاری غربت و مفلسی ملی ہے تو منشیات کے منفرد فوائد،ملے ہیں
گزشتہ روز اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی ایک جرگہ بھی بولا میں عوام کے ووٹوں کے اوپر پیشاب کرتا ہوں اس سے پہلے فریال تالپر نے ایک جلسے میں دھمکی آمیز جملے بولا کے شہداد کوٹ والو قمبروالو لاڑکانہ والو کہ ووٹ تیر کا ہے دماغ میں ہوا ہے تو وہ نکال دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عجب جملہ ہے اس جدید دور کی ڈور میں اور سائنس کے تیز تر ماحول میں خیر تبدیلی نظر آرہی ہے
افسوس اس بات کا ہو رہا ہے کہ آیا ابھی پاکستان پیپلز پارٹی میں جو پرانے لوگ موجود ہیں وہ اس بار کسی قسم کی اہمیت نہیں دے رہے اور عوام کو بطور اپنے نوکر کے جیسا سمجھ رہے ہیں جو سوچنے کی بات ہے اور گہرائی رکھنے والے تجزیے ہیں اور زیادہ تر حکمراں جماعت کے لیڈر عجیب اور دھمکی آمیز جملوں کے استعمال کرکے اپنے بھترین جنت کا مظاھرہ کر رہے ہیں
کچھ دن پہلے فریال تالپور کا شہدادکوٹ کے عوام کو بھرپور جواب دیا گیا اور اس سے پہلے بھی پ پ پ قمبر کے رہنما اور سردار شبیر چانڈیو کے بیٹے کے جملات بھی کچھ اس طرح کے کہے جا چکے ہیں آیا یہ جو لیڈر بنے پھرتے ہیں ان کے اور عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں جاتے ہیں اور پھر ان سے ملنا گوارہ نہیں کرتے اور اوپر سے ایسے جملات کا استعمال کرتے ہیں جن سے قوم کے ہر بندے کو افسوس کے علاؤہ کچھ بھی نہیں کہنا پڑتا ،ضرورت ہمیں یہ ہے کہ نوجوان قیادت اگے آئے یہ پرانے سیاستدان لوگوں کو ریٹائرمنٹ لینی چاہیے کیوں کہ اب وہ ان کے قول و فعل میں بہت فرق پڑ چکا ہے یقین کو جو بولنا ہے بول نہیں پاتے جو کہنا ہے وہ کہ نہیں پاتے اوپر سے ڈرا دھمکا کر ہراس پہلا دیا جاتا ہے اور سب کا گلا دبا دیا جاتا ہے آخر کب تک یہ لوگوں کو عوام کو ہراساں کرتے رہیں گے اور کب تک اپنے ووٹرس کو خوار و رسوا کر تے رہے گے کب تک ان کی تزلیل ہوتی رہے گی
کچھ دن پہلے ایک نوجوان تذلیل کی گئی آخر یہ کب تک تذلیل اور رسوائی ہوتی رہے گی آخر یہ ہو کیا رہا ہے نہ روزگار ملا بے نہ وسائل پیدا کئے گئے ہیں
میں ایک سول سوسائٹی اور پاکستانی محب وطن کے ناطے صرف یہ کہنا چاہوں گا کے کم از کم اپنی زبان کا درست استعمال کریں،

ووٹ ھے تو جمھوریت ھے ۔جس ووٹ اور جمھوریت کی خاطر پ پ کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھ گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شھید ھو گئی ۔سیکڑو کارکنان اور رھنمائوں نے کوڑے کھائے ۔جیل کی اذیتیں برداشت کیں ۔اس پارٹی کا منتخب سندھ اسیمبلی کا اسپیکر آغا سراج درانی اپنے حلقے میں ایک ووٹر کی طرف سے سوال کرنے پر ناراض ھو کر اس کے ووٹ پر پیشاب کرنے کی بات کرتا ھے ۔آغا سراج درانی اپنے حلقے سے ووٹ لے کر ایم پی اے بنا ھے اور پھر ایم پی ایز سے ووٹ لے کر اسپیکر بنا ھے اور پھر انھی ووٹس پر پیشاب کر رھا ھے ۔ ایسے زبان استعمال کرنے پر ووٹرس کا سخت رد عمل آ رھا ھے آغا سراج درانی سے معافی کا مطالبہ کیا جا رھا ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں