58

راہ منزل کو تک رہی ہوں میں :: غزالہ جلیل راو

راہ منزل کو تک رہی ہوں میں
خود میں ہرسو بهٹک رہی ہوں میں

کون دیکهے کے شب کے جنگل میں
مثل جگنو چمک رہی ہوں میں

تم زمیں پر تلاش کرتے ہو
آسماں پہ دمک رہی ہوں میں

راکهہ کا ڈهیر مت سمجهہ مجهہ کو
اک شرر یہوں بهڑک رہی ہوں میں

اے غزالہ مجهے نہیں معلوم
کب سے آنکهیں جهپ ک رہی ہوں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں