59

دل کی دل ہی میں رہی بات نہ ہونے پائی : فری ناز

دل کی دل ہی میں رہی بات نہ ہونے پائی
جس کی خاطر اس دل نے زمانے سے بغاوت کر لی

اس شخص ایک بهی ملاقات نہ ہونے پائی
وہ مثل بہاراں رہا سارے جہاں کے لئے

باغ دل اجڑا رہا پر برسات نہ ہونے پائی
بہہ چلا آنکهه سے اشکوں کا سمندر یاروں

بس اک میرے ہی گهر برسات نہ ہونے پائی
رک نہیں سکت زندگانی پهر بهی

الجهنیں کب ہے زندگی کی ختم ہونے پائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں