51

اپنی خواہش کو میں تبدیل بهی کر سکتی ہوں : شاعرہ :: غزالہ جلیل راو

اپنی خواہش کو میں تبدیل بهی کر سکتی ہوں
اور تیرے حکم کی تعمیل بهی کر سکتی ہوں

آبلہ پائ کا غم روک رہا ہے مجهہ کو
ورنہ میں کرب کئ ترسیل بهی کر سکتی ہوں

مجهہ کو اتنا تو یقیں ہے کہ پل بهر میں
غم کے اثرات کو تحلیل بهی کر سکتی ہوں

اس کی امدا میں کرتی ہوں دعا کی صورت
اور مدد مثل ابابیل بهی کر سکتی ہوں

زلیست تاریک بهی کر سکتی ہوں تیری صاحب
زندگی تیری میں قندیل بهی کر سکتی ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں