52

کسی سے اب بھلا کیا دل کا ماجرا کہنا : ریاض احمد احسان

کسی سے اب بھلا کیا دل کا ماجرا کہنا
درد در درد کا ہے اک سلسلہ کہنا
یہ میرا عیب نہیں ہنر ہے حقیقت میں
رہے جو دور نظر سے اسے خدا کہنا
ہمارے در سے تو قاتل بھی بامراد گیا
ہمارا نسب ہے واقف فقط دعا کہنا
جو دے رہے ہو اسے یاد خوب رکھ لینا
ملے گی تم کو بھی آخر یہی سزا کہنا
ستم تو یہ ہے کہ جتنے بھی تم نے ستم کیے
وہ تیرے بعد بھی رکھے ہیں سب روا کہنا
بلا کے حبس کی آغوش میں ہوں مدت سے
یہ اس کی یاد کہ رکتی نہیں ہوا کہنا
کھڑی ہے درپہ زمانوں سے بال کھولے ہوئے
جو تم گئے ہو تو آتی نہیں قضا کہنا
یہ فیض حاصل ہوا مجھے حسین سے ہے
جو حق پہ سر بھی کٹے تو اسے رضا کہنا
عشق کی منزلیں تو طے کر لیں
مقام وصل کو آیا نہیں حرا کہنا
مدینے جاؤں تو اتنی سی عرض کرتا ہوں
جو جانتے ہوں انہیں اپنا حال کیا کہنا
یہ میرے نام میں احسان رکھنے والی نے
مجھے سکھایا نہیں ہے لفظ برا کہنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں