47

اْلٹے پاؤں کے مقابل آ گیا ہوں :: شاعر۔رمضان نجمی ، بھکّر

اْلٹے پاؤں کے مقابل آ گیا ہوں
کِن بلاؤں کے مقابل آ گیا ہوں؟

کپکپاتا جسم جل ہی نہ پڑے اب
دھوپ چھاؤں کے مقابل آ گیا ہوں

پیچھے گرنا اب ضروری ہو گیا ہے
میں ھواؤں کے مقابل آ گیا ہوں

اب سنبھل کر ہی مجھے چلنا پڑے گا
اپنے گاؤں کے مقابل آ گیا ہوں

راستے میں پھر کوئی دھوکا ملے گا
بے وفاؤں کے مقابل آ گیا ہوں

نہ وہ جھکتا ہے نہ ہی اب میں جھکوں گا
دو اناؤں کے مقابل آ گیا ہوں

زندگی کا ، نہ اجل کا آسرا ہے
کن خداؤں کے مقابل آ گیا ہوں؟

اب مجھے مرنا پڑے گا نجمی صاحب
ہم نواؤں کے مقابل آ گیا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں