53

شاعرِ خوش نوا۔۔۔۔۔۔۔آصف شفیع

کلاسیکل شاعری میں ایک دور ایسا بھی آیا تھا کہ جب شاعر مشکل،دقیق،تشکیک،ذومعنین لفظوں کا انتخاب بوجوہ خودنمائی ،جان بوجھ کر کیا کرتے تھے۔کہ قاری مشکل میں پھنس کے رہ جاتا۔مروجہ اسلوب و بحوراور الفاظ سے آج کے شاعر سہل الاصول ہیں کہ دو مصروں میں بآسانی سے وہ بات کہہ دی جاتی ہے جو تادیر قاری کے دل و دماغ پر منقش ہو جاتی ہے۔بقول مولانا حسرت
شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔ
سنتے ہی جو دل میں اتر جائیں
آصف شفیع ایسے ہی نوجوان شاعر ہیں جنہوں نے مشکل پسندی اور تشکیک پسندی سے ذرا ہٹ کر سخنوری میں وہ راستہ اختیار کیا جو آسان فہم ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک ترنم،وجدان،ملائمت اور تکلمانہ انداز لئے ہوئے ہے۔جسکی بڑی وجہہ ان کا اپنی مٹی سے پیار ہے۔کہ دیار غیر میں بھی ان کے اندر سے ہمیشہ پاکستانیت اور وطن سے محبت کی خوشبو آتی رہتی ہے جو ان کی شاعری اور گفتار کا خاصہ خاص ہے۔آصف شفیع پیشے کے اعتبار سے اگرچہ انجینئر ہیں تاہم تہذیب و تمدن ،سلیقہ،قرینہ،اور انداز گفتار سے لکھنؤ کے دبستان ادب کے وہ سخنوردکھائی دیتے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا شاعری ،محض شاعری ہو۔
جمال یار کو تصویر کرنے والے تھے
ہم ایک خواب کی تعمیر کرنے والے تھے
تیرے ہمراہ چلنا ہے” آصف شفیع کی غزلوں ،نظموں اور ابیات پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام ہے ۔جس کا حال ہی میں دوسرا ایڈیشن منظر عام پر آیا ہے۔جو ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ قاری کی نبض کے شناس ہیں اور قاری ان کے کلام میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے ہوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی آصف شفیع کی فکری اڑان میں ان کا ساتھی ہے۔اور سوچتا ہے کہ “تیرے ہمراہ چلنا ہے”۔دیگر تصانیف میں”صدیوں سے اجنبی”(جس کا انگریزی ترجمہ سلیم صدیقی کر چکے ہیں)،”ذرا جو تم ٹھہر جاتے”،”جدا ہونا ہی پڑتا ہے”ان کے فکری تسلسل اور تخلیقی وابستگی اور شاعری کا مظہر ہے۔اگرچہ آصف کی شاعری میں دربدری۔یاس و حسرت، خزاں،پرندوں کا درختوں سے ا ڑ کر ویرانکر جانا اور ویرانی کا سماں پیدا کر جانا،چراغ وفا کا بجھ جانا وغیرہ ان کی شاعری میں ضرور ملتے ہیں مگر کہیں بھی نہ ان کا جنون کم ہوتا دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی آتش عشق کی چنگاری پس راکھ مدھم ہونے دیتے ہیں
مرا جنوں ہی میرا آخری تعارف ہے
میں چھوڑ آیا ہوں اپنا ہر اک نشاں کہیں
آصف شفیع کی اگر تمام کتب کا بنظر غور مطالعہ کیا جائے تو گل و بلبل،لب و رخسار و خم کاکل اگرچہ ان کی شا عری کا جزو لازم تو نہیں تاہم کلاسیکل انداز فکر سے دوری بھی اختیار کرتے دکھا ئی نہیں دیتے۔اور نہ ہی سستی شہرت کے حامل سخنطرا زوں کی طرح خدا و رسول سے تنگی داماں کے لئے شکوہ کناں ہوتے ہیں بلکہ عشق نبیﷺ برحق ان کی شاعری کا ہی وصفِ خاص نہیں ان کی زندگی کا خاصہ و متاع حیات بھی ہے۔
ان کے روضے کو دیکھ آیا ہوں
اس سے بڑھ کر نہیں کوئی معراج
۔یوں تو آصف شفیع کی شاعری کا ایک ایک مصرع قابل داد و تحسین کے لائق ہے تاہم نمونہ کلام نذر قارئین ہے۔
اک رستہ ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
اپنی دیوار بچاؤں تو شجر جاتا ہے

اور اب یہ دل بھی مانتا ہے
وہ میری دسترس سے ماورا ہے

خود سے ہی کلام ہو رہا ہے
یہ عارضہ عام ہو رہا ہے

یہی تو ہے کمال فن
کہ یار اغیار تک پہنچے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں