41

کھیڑے یا رانجھا :: از: مدثر علی محسنی

میرےقبلہ پیرو مرشد محی السنہ پیر طریقت حاجی محمد محسن منور یوسفی مدظلہ العالیٰ فرماتے ہیں:۔” جیسے جیسے وقت گزرتا ہے مومن شخص پکا اور مضبوط مومن بنتا چلا جاتا ہے اور بےایمان پکا بے ایمان بنتا چلا جاتا ہے ،اِسی طرح سچا شخص ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کو پسند کرتا ہے اور جھوٹا ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کو ہی پسند کرتا ہے “۔
اسلام دنیا کا ایسا مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کی اخلاقی و روحانی دونوں اعتبار سے تربیت کرتا ہے اور اِس بات کی رغبت دلاتا ہےکہ انسان نہ صرف اپنے لئے بہترزندگی و آخرت کی جہدوجہد کرئےبلکہ دوسروں کے لیے بھی خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہوئے اُنکا بھی خیال رکھے۔مگر آج حالات یکسر مختلف ہیں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بیشتر مسلمان دین سے دور ہوتے گئے اور اب معاشرہ ایسے موڑ پہ پہنچ چکا ہے کہ بے شمار سماجی برائیوں کا دَور دَورا ہے اکثر لوگ اچھائی اور برائی کی تمیز کھو چکے ہیں۔ جھوٹ کو جھوٹ نہیں سمجھا جاتا، رشوت ایک مجبوری بن چکی ہے دوسروں کے مال پر ناحق قبضہ اپنا فرض منصبی سمجھا جاتا ہے۔ منافقت کی بہت سی صورتیں ایسی پیدا ہو چکی ہیں جن کو جانتے بوجھتے ہوئے اپنی زندگیوں میں قبول کر لیا گیا ہے۔انسان ناپسنددیدگی کے باوجود دوسروں کو ایسے تاثرات دینے پر مجبور ہے کہ جیسے وہ ان سے بہت خوش ہے یا پھر اُسے کسی بھی قسم کی شکایت یا گلہ نہیں حالانکہ وہ اندر ہی اندر کُڑہتا رہتا ہے۔۔۔
آج عام انسان برائی پر نادم ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتا ہے شرمندہ ہونے کی بجائے اُس برائی کو اپنے ہم خیال لوگوں میں فخر سے بیان کرتا ہے۔ منافقت کو پروفیشنل ازم کا نام دے دیا گیا ہے۔سچ بولنے والوں کی کوئی قدر نہیں سچا انسان نشانہ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔لوگ اپنے بچوں کو سچ سکھانے اور سچ پر قائم رہنے کا اصول سکھانے سے عاجز ہیں۔ایک جھوٹ چھپانے کی خاطر سو جھوٹ بول دیئے جاتے ہیں۔مثلاً ایک عام جھوٹ جو گھروں میں کثرت سے بولا جاتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی سکھایاجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی کا فون آ جائےیا کوئی ملنے کے لیے گھر میں آئے اگر اس سے ملنا یا بات کرنا نہیں چاہتے تو بچوں سے کہا جاتا ہے کہ تم کہہ دو گھر میں نہیں۔آج ہم میں سے ہرشخص اپنے مسلمان ہونے کا جس شدت سے دعویدار ہے عملی طور پر اِس دعوی کی جھلک اسی شدت کی کمی سے کردار میں نظر آتی ہےحتٰی کہ منافقت کی حد تو یہ ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے گویا اسلام سے محبت اور اس کا تحفظ صرف اور صرف اُس فردِ واحد کی ہی ذمہ داری ہے۔لیکن جب عملی زندگی کو دیکھو تو دوسرا ہی منظر سامنے آتا ہے۔
ہم میں سے اکثر جتنی پابندی سے پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں اتنی ہی پابندی سے رشوت بھی لیتے ہیں، جتنے اہتمام سے روزے رکھتے ہیں اتنے ہی اہتمام کے ساتھ اشیاء میں ملاوٹ بھی کرتے ہیں۔ کرسمس آمد پرمغرب کے تاجر تو اپنے تہوار کے احترام میں چیزوں کی قیمتوں میں نمایاں طور پر کمی کردیتے ہیں تاکہ عوام النّاس پورے جوش و جذبے کے ساتھ مع اہلِ خانہ بھرپور انداز میں شرکت کرسکیں، جبکہ ہمارا وتیرہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی گرانی کا سیلاب امنڈ آتا ہے اورعیدالفطر تک اس میں تیزی کے ساتھ اضافے پر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اسی طرح حج وعمرہ اورعیدین کے موقع پر مہنگائی، اشیائے خورونوش کی کمیابی، حج و عمرہ کے فضائی ٹکٹ اور فیسوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے آخر یہ سب مسلمانوں میں ہی کیوں؟؟؟؟؟؟؟
اِسی طرح لوٹ کھسوٹ کے مال سے ہم اگر کبھی ہم کوئی نیکی کا کام کر بھی دیں تو اس رقم سے ڈبل رقم ہم اس منصوبے کی تشہیر اور اپنا نام اونچا کرنے پر لگا دیتے ہیں۔ جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ، ہرجگہ جھوٹ، یہ سب صورتیں جھوٹ کی عملی شکلیں ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کے اس مال سے ہم بڑی بڑی کوٹھیاں، بنگلے، مکانات، سپر سٹور، کثیر المنزلہ فیکٹریاں بناتے ہیں اور ان سب پر جلی حروف میں ھذا من فضل ربی کی تختی لگا کر یا کسی مولانا سے افتتاح کروا کر اپنے مال کے حلال ہونے کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔یعنی”چوری میرا پیشہ اور نماز فرض ہے” کی عملی شکل ہماری روز مرہ زندگیوں میں واضح طور پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ایک بدنام زمانہ رقاصہ جب حج کر کے لوٹیں تو ان سے شوبز میں کام جاری رکھنے سے متعلق پوچھا گیا تو موصوفہ فرمانے لگیں:۔” حج فریضہ سمجھ کرکیا،رقص میرا پیشہ ہے “۔ حلال اور حرام کی مٹتی ہوئی اِس تمیز نے معاشرے میں عجیب افراط و تفریط کا سماں کا قائم کر رکھاہے۔اکثر ایسے پیٹرول پمپ اور دودھ کی دوکانیں جن پر حدیث مطہرہ “جس نے ملاوٹ کی وہ ہم سے نہیں” نہایت بڑے بڑے حروف میں لکھی نظرآتی ہے ملاوٹ جیسے گھناونے فعل میں مرتکب نظر آتے ہیں۔ نہ خوف خدا نہ شرمِ نبیﷺ۔۔۔استغفراللہ۔
ایک طرف مسلمانوں اپنے دین کو ساری دنیا کے ادیان سے بہترین اور قابلِ عمل سمجھتے ہیں ،فخر سے نعرے لگاتے ہیں کہ اور یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ساری دنیا کے لوگ اسلام قبول کرلیں دوسری طرف اس حقیقت سے نظریں چرائے بیٹھے ہیں کہ کوئی دین اور اسکی دعوتی تحریک محض اپنے عقائد وافکار او ر مخصوص آئیڈیالوجی کی بنیاد پر دلوں کو نہیں جیت سکتی، غیروں کے دلوں پر اثر اُس دین کے ماننے والے فرد کا کردار، اخلاق، معاشرتی زندگی کرے گی۔لوگ کہتے ہیں میرے یا ایک بندے کے ٹھیک ہونے سے کیا ہوجائے گا اس لیے وسائل کی کثرت کے باوجود ہمارے معاشرے میں فَساد ہے حقیقت میں ہم نے کبھی اپنی اصلاح کی کوشش ہی نہیں کی، ہر آدمی اچھے عمل کی ابتدا دوسرے سے کروانا چاہتا ہے۔ اگر آج ہم سے ہر بندہ اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرلے اور یہ عہد کرلے کہ میرے سے آئندہ اَن شااللہ غلط اور خلاف اصول و قانون کام نہیں ہو گا تو ایک ٹائم آئے گا کہ ہمارا معاشرہ ایک آئیڈیل معاشرہ بن جائےگا۔
مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک ایسےشخص کا قصہ بیان کرتے ہیں جو باتونی اور سنگدل انسان تھا۔ اس نے اپنے گھر کے باہر راستہ میں کانٹوں کا ایک جھاڑ بو دیا تھا،گزرنے والے اُس کو ملامت کرتے اورسمجھاتے، سب نےاُسے کہایہ کانٹے دار جھاڑ یہاں سے اُکھاڑ دے کیونکہ
اس سے راہگیر زخمی ہوں گے اور تو خود بھی اُسکے کانٹوں کی زد میں آئے گا۔ مگر اِس آدمی نے کسی کی ایک نہ سنی، وقت گزرتا رہا وقت کی آبیاری نے اُس جھاڑ کوتناور درخت کی صورت میں تبدیل کر دیا تھا۔بلآخر پھروہی ہونا شروع ہوا جس کا خدشتہ تھا۔یعنی راہگیروں کے پیر زخمی ہونے لگے، بہت سوں کے کپڑے اُس سے الجھ کر پھٹنے لگے،کسی کے پیر زخمی ہوتےتو کسی کی پگڑی الجھ جاتی۔
الغرض یہ معاملہ بادشاہ کے دربار میں پیش ہوا حاکمِ وقت نے اُس آدمی کو اپنے دربار میں بلا کر خوب سرزنش کی اور تاکید کی کہ فوراً اس جھاڑ کو اکھاڑ دے۔ وہ آدمی کہنے لگا “ہاں کسی دن اس کو اکھاڑ دوں گا “خیر اِسی طرح ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور وقت ضائع کرتا رہا۔ دوسری طرف وہ خاردار درخت اب اور تناور ہوگیا اور اُسکی جڑ مضبوط ہوتی چلی گئی۔ لوگ تنگ آ کر پھر بادشاہ کے پاس پہنچے، جب شکائیتوں کا تانتا بندہ گیا تو حاکمِ وقت نے اُس آدمی کو پھر طلب کیااور اسے “وعدہ خلاف” کے خطاب سے نوازتے ہوئے آخری تنبیہ کی اور پورے دربار میں اپنے مشیروں وزیروں کے سامنے بھرے مجمعے میں اس آدمی کی خوب سرزنش کی،اورکہا کہ اب فوراً ہمارے حکم کی تعمیل کر کیونکہ زمانے نے اب تیرے میرے درمیان بہت دوری پیدا کر دی ہے یعنی اب میں تیرا عذر نہیں سننا چاہتا بلکہ حکم کی تعمیل چاہتا ہوں اور یہ جوتو ہر کام میں”کل” کہتا ہے تو یہ سمجھ لے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تو کمزور اور وہ درخت تناور ہوتا جا رہا ہے خاردار درخت طاقتور اور بلند تر ہو رہا ہے۔کاٹنے والا سستی اور گھاٹے کی طرف چل رہا ہے۔ وہ درخت ہر دن ہر وقت سرسبز ہے۔کاٹنے والا ہر دن کمزور اور خشک ہو رہا ہے وہ زیادہ جوان اور توانا ہے۔ اور تو بوڑھا اور کمزور، لہذا جلدی کر اپنا وقت ضائع نہ کر۔
مولانا روم کے اس واقعے سے بہت اہم سبق ملتا ہے کہ معاشرے کی برائی کو ختم کرنا مشکل نہیں اگر ان کو ابتداء میں یعنی جنم لیتے ہی کنڑول کر لیا جائے اور اگر وہ برائیاں معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکیں ہوں تو پھر ان کو ختم کرنا بہت مشکل ہے۔انسان کو چاہیے اپنی ہر بری عادت اور نفس کو خاردار درخت سمجھے کہ اس نفس کی کارستانی سے دوسرے بھی تکلف اٹھاتے ہیں اور انسان خود بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ لہذا اس کو اس وقت سے پہلے ہی کاٹ دو کہ پھر انسان اس بات سے عاجز آجائے اور نفس کا اتنا غلام بن جائے کہ پھر اسے اپنی بری عادات کو چھوڑنا ناممکن لگنے لگے۔
انگریزی کا معقولہ ہے۔

Nip the evil in the bud۔

۔۔وارث شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
دنیا تے اَو سُکھ نہیں پاوندا جیڑا دو گھراں دا سانجھا
اِکَّو پَاسہ رَکھ لے نی ہیرے یاکھیڑے یا رانجھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں