60

ئ 20نومبر بچوں کا عالمی دن:: . رشیداحمد نعیم

پیا رے بچو !زند گی اللہ تعا لیٰ کی دی ہوئی عظیم نعمت ہے اوریہ صر ف ایک با ر ہی ملتی ہے ۔آپ چا ہیں تو اسے خوبصو رتی سے گزار کر اپنے لیے اس کے مفید اثرات او ر نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے موا قع حاصل کر لیں یا پھر غلط طریقے سے بسر کر کے اپنے آپ کو ناکامیو ں اور مصیبتوں سے دو چار کر لیں اللہ تعا لی ٰ نے آپ کو اتنی سوجھ بوجھ عطا کی ہوئی ہے کہ آپ اپنی زندگی کو جہنم بھی بنا سکتے ہیں اور گلزار بھی آپ پاکستان کا مستقبل ہیں آپ اپنی زندگی کا سفر صیح خطوط پر طے کر کے کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑہ سکتے ہیں ۔ آئیے! زندگی کو ان قیمتی موتیوں کو سامنے رکھ کر گزاریں۔ ان شاء اللہ پریشانی و مصیبت قریب بھی نہیں آئے گی اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ بچوں کے لیے ایک خصوصی تحریر
** کامیاب زندگی کے حُسین رنگ۔قیمتی موتیوں کے سنگ**
وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھے سر جھکا کر اسکی گلی سے گزر جاتا، دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظر التفات ڈالے۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا اس عورت کو اب ضد سی ہوگئی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے، اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔ اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اسکی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اسکا غرور توڑ سکے، آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اسکے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹا میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے۔ نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے، اس عورت نے کہا بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلۂ پوچھنا ہے۔ وہ مجبور ہے خود باہر نہیں آسکتی۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جو عورت اسے بلا رہی ہے اسکا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا اسکے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کرنے کا کہہ کر چلی گئی، تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لی کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی، نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کونسا مسلۂ پوچھنا ہے۔ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلوں نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو۔ اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا، اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی، اسکی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا۔ وہ علاقہ جہاں لوگ اسکی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا، وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا دل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی تو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے عورت نے اسے بیت الخلاء کا بتا دیا اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے کپڑوں اور جسم پر مل لی اور باہر آگیا، عورت اسے دیکھتے ہیں چلا اٹھی یہ تم نے کیا کیا ظالم۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آگئے، دفع ہو جاؤ، نکل جاؤ میرے گھر سے۔ نوجوان فورا’’اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے، کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے۔ اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا، استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اسکے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے لیکن میں مجبور تھا اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنایا استاد نے کہا کہ میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا خدا کی قسم تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا’’یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن اللہ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی۔پیا رے بچو !زند گی اللہ تعا لیٰ کی دی ہوئی عظیم نعمت ہے اوریہ صر ف ایک با ر ہی ملتی ہے ۔آپ چا ہیں تو اسے خوبصو رتی سے گزار کر اپنے لیے اس کے مفید اثرات او ر نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے موا قع حاصل کر لیں یا پھر غلط طریقے سے بسر کر کے اپنے آپ کو ناکامیو ں اور مصیبتوں سے دو چار کر لیں اللہ تعا لی ٰ نے آپ کو اتنی سوجھ بوجھ عطا کی ہوئی ہے کہ آپ اپنی زندگی کو جہنم بھی بنا سکتے ہیں اور گلزار بھی آپ پاکستان کا مستقبل ہیں آپ اپنی زندگی کا سفر صیح خطوط پر طے کر کے کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑہ سکتے ہیں ۔ آئیے! زندگی کو ان قیمتی موتیوں کو سامنے رکھ کر گزاریں۔ ان شاء اللہ پریشانی و مصیبت قریب بھی نہیں آئے گی اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی*پہلی ناکامی پر مت گھبراؤ یہی عروج کی پہلی سیڑھی ہے*آنسو اس وقت مقدس ہوتے ہیں جب دوسروں کے دُکھ میں نکلیں۔*ہم بیماری کے خوف سے پسندیدہ غذا چھوڑ دیتے ہیں مگر آخرت کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑتے۔*خوشی کسی کی محتاج نہیں ہوتی فرق صرف اتناہوتا ہے کہ اپنانے والاکس رنگ میں اپناتا ہے۔*مصیبتیں برداشت کرنا سیکھو کیونکہ اس کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔*ایک خدا کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق و مالک ہے۔بت پرستی گناہ کبیرہ ہے۔*خاموشی غصے کا حیرت انگیز اور بہترین علاج ہے۔*مشکلوں سے نہ گھبراؤ کیونکہ ستارے اندھیرے میں ہی چمکتے ہیں۔*مایوسی سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز بُری نہیں ہے مایوسی موت کا دوسرا نام ہے۔*اعتبار عمل میں ہوتا ہے الفاظ میں نہیں۔* بزرگوں اور اساتذہ کی خدمت کر کے د نیا و آ خرت میں کا میابی و کا مر نی ،خو شی و مسرت ، سکھ و چین اور را حت و سکون حا صل کر یں * پریشانی حا لات سے نہیں خیا لات سے پیدا ہو تی ہے۔*بہترین آنکھ وہ ہے جو حقیقت کا سا منا کر ے۔*دنیا میں سب سے مشکل کا م اپنی اصلا ح کر نا ہے اور سب سے آسان کا م دو سروں پر تنقید کر نا ہے۔*نفرت دل کا پاگل پن ہے۔*جو او نچی جگہ پر کھڑے ہو تے ہیں ان کو زیادہ طو فان اور آندھیوں کا مقا بلہ کر نا پڑ تا ہے ۔ *کسی کا دل مت دکھا ؤ ہو سکتا ہے اس کے آ نسو تمہا رے لیے عذ اب بن جا ئیں۔*سچا ئی کی مشعل جس کے ہا تھ میں دکھا ئی دے اس سے فا ئد ہ اٹھا ؤیہ نہ دیکھو کہ وہ کس کے ہا تھ میں ہے ۔*مصا ئب سے مت گھبرا ؤ کیوں کے ستا رے اند ھیرے میں ہی چمکتے ہیں۔*انسان زندگی سے ما یوس ہو تو کا میا بی بھی نا کا می نظر آ تی ہے ۔*مظلوم کی آہ سے ڈرو کیونکہ اس کے بعد اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔*سادگی ایمان کی علامت ہوتی ہے*کسی کو پانے کی تمنا نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اس قابل بنا ؤ کہ دنیا وا لے تجھ کو پانے کی تمنا کریں اور تجھ کو ڈھونڈ تے پھیریں۔*زیادہ دکھی وہی ہو تا ہے جو زیادہ مخلص ہو تا ہے کردا ر ایسا ہیرا ہے جو پتھر کو بھی کا ٹ سکتا ہے ۔*شرم کی کشش حسن سے زیا دہ ہے ۔*ا گرتم لوگوں کے قصور معاف کرو گے تو اللہ تمہارے قصور معاف کرے گا*حو صلہ کبھی نہیں پو چھتا کہ پتھر یلی دیوار کتنی اونچی ہے ۔*اہمیت دکھ کی نہیں دکھ دینے والے کی ہو تی ہے ۔*پنی مرضی اور خدا کی مر ضی میں فرق غم ہے۔*انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ جو چا ہتا ہے نہیں ملتا اور جو نہیں چا ہتا وہ ملتا ہے ۔* اپنی ضرورتوں کو محدود کر لینا ہی دولت مندی ہے*دشمن کے حسن سلوک پر بھرو سا نہ کرو کیوں کہ پانی جتنا بھی گر م ہووہ آ گ بجھا ہی دیتا ہے ۔* کامیابی کا زینہ ناکامیوں کی بہت سی سیڑھیوں سے مل کر بنتا ہے*اچھا لباس زیب تن کر تے ہو ئے اپنے کفن کے با رے میں بھی ایک با ر سو چ لیا کرو ۔*کسی انسان کے چہرے پر مت جا ؤیہ ایک بند کتا ب کی ما نندہے جس کا سر ور ق کچھ ہو تا ہے اور اندرونی صفحات پر تحریر کچھ اور ۔*لو گوں سے اس طر ح ملو کہ کہ مر جا ؤ تو تمہیں رو ئیں اور اگر زندہ رہو تو تمہا رے مشتا ق ہو ں۔*جو شخص خو دکو پسند کر تا ہو وہ آ ہستہ آ ہستہ دوسروں کو نا پسند ہو جاتا ہے ۔*اعتدال پر نگا ہ رکھو کہ اس کی ہر دو اطرا ف میں افراط و تفر یط ہے۔*بد گما نی کر ناانسان کے باطن کے نا پا ک ہو نے کا نشان ہے۔*ثوا ب کا حساب نہ کرو۔*جا ہل کے خیال اور عمل میں بہت کم وقفہ ہو تاہے ۔* حج کی نشانی یہ ہے کہ حاجی کی حا لت پہلے سے بہتر ہو ۔*خوش کلامی بہترین نعمت خدا داد ہے ۔*دشمن سے ایک بار اور دوست سے بار بار ڈرو کیوں کہ اگر دو ست دشمن ہو جا ئے تو وہ تمہیں نقصان پہنچا نے کے بے شمار طر یقے جا نتا ہے ۔*ذلت کی ہزار صور تیں ہیں مگر قر ض کی ذلت سب سے سخت ہے ۔*رو پیہ انسان کا بہترین خا دم اور بد تر ین آ قا ہے ۔*زاہد و تقوی بہترین زادہِ راہ ہے۔*شجرہ نسب کے سا ئے میں پناہ لینے وا لا دنیا میں کو ئی جگہ نہیں حا صل کر سکتا ۔*صور ت بغیر سیرت کے ایک ایسا پھو ل ہے جس میں کا نٹے زیادہ ہو ں اور خوشبو با لکل نہ ہو *۔ضمیر ہمارے اندراس آواز کا نا م ہے جو ہمیں متنبہ کر تی ہے کہ کو ئی ہمیں دیکھ رہا ہے ۔*طمع ایسی بھوک ہے جو کسی بھی فیا ضی سے بھی پیٹ کو بھرنے نہیں دیتی۔*ظلمتِ شب کی آ غوش میں ہی سویرا ہو تا ہے ۔*عیاری ایک چھو ٹے کمبل کی ما نند ہو تی ہے اس سے سر چھپا ؤ تو پاؤ ں ننگے*غصے کی مقدار بات چیت میں اتنی ہو نی چا ہیے جیسے کھا نے میں نمک جب نمک منا سب رہتا ہے تو ہا ضم ورنہ فا سد۔*فقر کی جڑ دو چیزیں ہیں۱ ۔ترک ما ل ۲۔ترک سوا ل۔ * قوا نینِ قدرت سے انحراف کر نے وا لا کبھی محفو ظ نہیں ہو سکتا ۔*کفرا نِ نعمت پر ہی زوا لِ نعمت ہو تا کرتا ہے۔*لا ئق آ دمیوں کی حق تلفی کر نا انصا
ف کے گلے پر چھر ی چلا نا ہے ۔*مہر بانی سے ملنا دعوت دینے کی نسبت اچھا ہے۔*نصف راہ سے وا پس آ جا نا گمرا ہ ہو نے سے بہتر ہے ۔*وقت کے پا ؤں کی آ ہٹ سنی نہیں جا سکتی ۔*یقین محکم اور عمل پیہم ہی کا میا بی کی ضما نت ہو تے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں