112

آرمی چیف نے قوم کو بڑے سانحہ سے بچا لیا : پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل

فیض آباد دھرنے پر تشدد کے بعد ملک بھر میں پیدا ہونے والی بد ترین صورتحال کے باعث آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مداخلت پر دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد صورتحال بد تر سے بہترین کی جانب گامزن ہوئی ،دن 12بجے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے زاہد حامد کے استعفیٰ کی خبر سامنے آتے ہی علامہ خادم حسین رضوی نے 15منٹ بعددھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا انہوں نے اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے تمام امور پر امن طور پر پایہ تکمیل پہنچے،اس سے قبل رات گئے حکومت اور مظاہرین کے درمیان چھ نکاتی معاہد ہ طے پایا جس میں سر فہرست وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ تھا مگر اب اس کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں جاری کیاجائے گا،راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ 30میں منظر عام پر لا کر اس کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے گی،25نومبر کو دھرنے پر حملے کے ذمہ داران کا بھی تعین کیا جائے گا ،املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کر کے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ازالہ کریں گی،تمام گرفتار کارکنوں کو نہ صرف فوری رہا کیا جائے گا بلکہ تمام مقدمات بھی ختم کئے جائیں گے،ملک بھر میں کارکنوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی جائے گی ،اس معاہدے کے آخر میں یہ درج ہے کہ آرمی چیف نے ملک کو بڑے سانحہ سے بچایا اس معاہدہ کو حتمی نتیجے پر پہنچنانے کے لئے فوج کے حاضر سروس افسر جنرل فیض حمید شامل رہے معاہدے پر جنرل فیض کے دستخط کے علاوہ وزیر داخلہ احسن اقبال ،سیکرٹری داخلہ ،سربراہ دھرنا علامہ خادم حسین رضوی ،سرپرست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری ،مرکزی ناظم اعلیٰ محمد وحید نور اور پیر محمد افضل قادری کے دستخط بھی موجود ہیں ،گذشتہ روز ملک بھر میں بد ترین صورتحال پیدا ہونے پر حکومت لر کھڑا گئی اس کے پاس اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی آپشن موجود نہ رہے،دوسری جانب ملک میں موجود موٹر ویز،شاہرائیں ،شہروں کو جام کر دیا گیا ،جگہ جگہ مظاہرین کے مظاہرے،وکلاء کی ہڑتال،چوہدری نثار علی خان کے گھر حملے کے دوسرے روز مظاہرین نے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کی گھر پر حملہ کرنے کی کوشش کی ،سیالکوٹ میں منشا ء بٹ ،لاہور میں بلال یسین کے گھروں پر حملے کئے،دھرنا آپریشن سے قبل ملک تمام ملکی خفیہ اداروں نے حکومت پر واضح کر دیا تھا کہ اگر دھرنے کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو پورا ملک خانہ جنگی کی فضا پیدا ہو جائے گی مگر حکومت نے اس وارننگ پر کان نہ دھرے اور ہٹ دھرمی پر اڑی رہی یہ معاملہ مس ہنڈل کیا گیا جس سے نہ صرف پاکستان میں نظام زندگی مفلوج ہوا بلکہ قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا،اس صورتحال پر وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،چوہدری نثار احمد ،ڈی جی آئی ایس آئی ،آئی جی پنجاب ،آئی جی پولیس اسلام آبادسمیت متعدد اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی ،اس اجلا س میں آپریشن نہیں مفاہمت پر سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان اتفاق ہوا،اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ معاملے کو پر امن طریقے سے حل کرانے کے لئے دھرنا قائدین سے مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں اور علماء سے رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ بھی ہوا،اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے واضح کر دیا کہ عوام کی محبت پاک فوج کا اثاثہ ہے اور وہ اس محبت کو معمولی فوائد کے لئے دبایا نہیں جا سکتا ہم اپنے عوام کے خلاف کسی صورت طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے ختم نبوت ترمیم کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر کے انہیں سزا دی جائے ملک میں بد امنی اور انتشار کی صورتحال ٹھیک نہیں اس سے پاکستان کی دنیا بھر میں ساکھ متاثر ہوئی ہمیں متحد رہنا ہو گااسی موقع پر آرمی چیف کی ہدایت پر الیکٹرانک میڈیا پر عائد پابندی کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جنرل قمر جاوید نے مزید کہا کہ فوج موجود رہے گی تاہم اس کا دھرنے کے خلاف آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہو گامظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمہ داری پولیس اور سول سیکیورٹی اداروں کی ہے لہٰذا انتظامیہ اور پولیس مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکالے (حالت یہ تھی کہ حکومت نہ نہ صرف الیکٹرانک میڈیا کو بند کر دیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بر بریت کے دوران جس طرح انٹر نیٹ،فیس بک،ٹوئٹر وغیرہ بند کر دئیے جاتے ہیں وہی صورتحال پاکستان میں بھی تھی) ، آرمی چیف کے اس واضح ترین بیان پر سول حکومت میں جو دم خم تھا وہ بھی گیا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف فوری لاہور پہنچ کر وہیں زاہد حامد کو بلا کر استعفیٰ دینے کا کہہ دیا ان کی یہ ملاقات ایک گھنٹہ تک جاری رہی ،حلانکہ میاں نواز شریف آخری وقت تک ان کے استعفیٰ کو منظور نہ کرنے کی ہدایت کرتے رہے،اس سے ایک روز قبل حکومت نے عجلت میں کئی غلطیوں سے لبریز فوج کو طلب کرنے کا خط لکھا جس پر فوج تو نہ آئی البتہ آگے سے کئی سوال سامنے رکھ دئے گئے ،مزید کچھ نہ سوجھا تو سول حکومت نے پنجاب رینجرز کے سربراہ ڈ ی جی رینجرز جنرل اظہر نوید حیات کو تما م اختیارات سونپتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا ٹاسک دے دیا،اس حساس ترین معاملہ کو حکومت نے اپنی نا اہلی سے بگاڑ کر رکھتے ہوئے تشدد کو خود پروان چڑھایا،اب وفاقی وزیر قانون زاہدحامد وزیر قانون نہیں رہے کیا اگر یہی دھرنا شروع ہونے سے قبل یا دھرنا کے آغاز میں یہ بات مان لی جاتی بلکہ یہ کسی پر احسان نہیں ہونا تھا کیونکہ یہ ایک اسلامی جمہوری مملکت ہے تو یہ صورتحال کبھی پیدا نہ ہوتی ،عوام کو سولی پر چڑھائے رکھا مگر انا کو نہ چھوڑا گیا،وزیر داخلہ کہتے تھے یہ دھرنا تو صرف دو سے تین گھنٹے کا مسئلہ ہے،کیا یہی تھا وہ مسئلہ جو بالآخر نہ صرف زاہد حامد کے استعفیٰ پر منتج ہوا بلکہ اب تو کئی اوروں کو بھی گھر جانا پڑے گا،سرگودھا سے لیگ ایم پی اے نظام الدین سیالوی نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ مزید مسلم لیگی استعفے آئیں گے،پنجاب میں رانا ثنا ء اللہ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب پر شدید ترین دباؤ بڑھ چکا ہے جن کے بارے ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت جلد ان کا ستعفیٰ سامنے آجائے گا کیونکہ حکومت اب اس پوزیشن میں نہیں رہی کہ اپنے اراکین کا دباؤ برداشت کر سکے، وہاڑی سے لیگی ایم این اے طاہر اقبال نے مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کا علان کر دیا،غلام محمد لالی،شیخ اکرم ،محمد خان بلوچ،رانا منور غوث،رضا حیات ہراج ،نثار جٹ ،جعفر لغاری ،اکرام بندیال،وارث کلو،عبدالرزاق،غلام بی بی بھروانہ سمیت کئی اور مسلم لیگی پارلیمنٹرین کے حکومت سے ناراض ہونے کی اطلاعات ہیں ،وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنی ایک تقریر میں دھرنا میں شامل افراد کو غیر ملکی سازش قرار دیا انہوں نے چوہدری نثار علی خان کے گھر کے حوالے سے بات کی تو چوہدری نثار علی خان کا ان کے خلاف سخت ترین رد عمل سامنے آیا انہوں نے کہا میرے گھر سے گولی چلنے پر کوئی ہلاک تو کیا زخمی بھی نہیں ہوا یہ وہی وزیر داخلہ ہیں جو کہتے تھے میں صرف تین گھنٹوں میں دھرنا ختم کرا سکتا ہوں اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لئے بے سروپا باتیں نہ کریں اپنی ناکامی کا سارا بوجھ اب عدلیہ پر پھینک رہا ہے،صورتحال اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ حکومت کو پنجاب بھر میں لیگی ممبران اور وزراء کی سیکیورٹی کے لئے سخت انتظامات کرنا پڑے،ایک طرف الیکٹرانک میڈیا بندش تھی اور ساتھ بتایا گیا کہ اگر عوام دھرنا اور ملکی حالات جاننا چاہے تو سرکاری ٹی وی (PTV)کو دیکھے اسے دیکھا تو وہاں وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب پی ٹی وی کی سالگرہ کا کیک کاٹ رہی تھیں، دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ جس نے وزیرداخلہ کو دھرنا ختم کرنے کا کہا تھا نے معاہدہ ہونے کے بعد اپنی سماعت میں احسن اقبال کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور آئین کی کوئی حد ہوتی ہے جن فو ج کو سیاست کرنے کا شوق ہے وہ فوج چھوڑ کر سیاست میں آ جائیں آرمی اپنے کردار میں رہے جسٹس منیر والا وقت اب نہیں رہاآئین کے تحت کوئی فوجی افسر ثالث نہیں بن سکتا ،ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کی اس سماعت پر بھی سخت سرزنش کی اور تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے دو کمیٹیاں تشکیل دے کر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ،28گھنٹے تک الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی بندش پر لاہور ہائی کورٹ میں پیمرا کے خلاف رٹ دائر کر دی گئی ہے اس غیر قانونی بندش پر پاکستان بھر میں صحافتی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی مگر آرمی چیف کے آگے ٹھس ہو گئی ۔ اکتوبر میں الیکشن ایکٹ2017 میں ختم نبوت سے متعلقہ ترامیم پر یہ معاملہ شروع ہوا جسے حکومت نے محض غلطی قرار دیا یہ ترامیم احمدیہ جماعت سے متعلقہ تھیں دو سیاسی جماعتوں تحریک لبیک یا رسول اللہ ؐ اور سنی تحریک سمیت ہرعاشق رسول ﷺ نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ختم نبوت اور جماعت احمدیہ سے متعلق شق کو جان بوجھ کر چھیڑنے کو بہت بڑی ساش قرار دیا مگر حکومت بات پر ڈٹی رہی کہ نہیں یہ صرف محض غلطی ہی ہے اور زاہد حامد کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے جس پر لبیک یا رسول اللہ ؐ اور سنی تحریک نے لاہور سے جلوس نکالا اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد چوک پر خیمہ بستی آباد کر ڈالی جس سے یہاں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی مگر حکومت کی ڈھٹائی جاری رہی جو بہت بڑے نقصان کے بعد آرمی جسے وہ ہر وقت کوستے رہتے ہیں کی مداخلت پر اس بحران سے نکلنے کی صورت سامنے آئی ،احسن اقبال کی وہ بات بہت غور طلب ہے جس میں ہو کہتے ہیں ہم عدالتی حکم کے پابند تھے حیرت ہے ان کا لیڈر تو ہر جگہ ہر جلسہ میں یہ کہتا ہے کہ یہ کون ہوتے ہیں5لوگ؟ جنہوں نے 21کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو نکالا،وہ پانچ لوگ کون تھے سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج صاحبان جو ہائی کورٹ سے بھی اوپر کے عہدوں پر ہیں،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سرکاری دورے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ سعودی عرب کے دورہ پر چلے گئے ہیں وہ بھی غلط مشورے دینے والے وزراء کا قلمدان تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکے ہیں ،آئندہ چند دنوں میں کئی استعفے سامنے آئیں گے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں