69

۔پاکستان ۔مرادعلی شاھد ؔ دوحہ قطر۔RAY صد :

جمہوری سیاسی افق پر چودھویں کے مہتاب کی طرح مہینہ بھر میں ایک ہی بار نظر آنے والے اس سیاسی چاند کو صدر پاکستان کہا جاتا ہے۔جبکہ آمرانہ چرخ سیاست پہ ۵۸۔۲ب ۔اختیار کے ساتھ ٹمٹمانے والے اس آفتاب کو صدر اعظم(صدر+وزیراعظم+اختیارات)خیال کیا جاتا ہے۔جو بلاشبہ اختیارات کا خاقان اعظم اور کسی طور بھی سکندر اعظم سے کم نہیں ہوتا۔دور جمہور میں عدم اختیارات کے سبب انہیں(rubber stamp)رسمی دستخط کرنے والا ممولہ سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ دور آمر میں (جس میں آمر ساحری عامر بن جاتا ہے)میں اختیارات کے باعث صدر کو آئین میں وہی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو فیصل آباد میں گھنٹہ گھر کو حاصل ہے۔جو آٹھ بازاروں کے درمیان ایستادہ ہر آنے جانے والے کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ایسے ہی آئین کے ہر صفحہ پر اختیارات کی :گرز؛اٹھائے ؛مونچھوں؛کو تاؤ دئیے(دو صدور بوجوہ مونچھ مشہور ہوئے)پہلوانوں کی طرح صدر ہی صدر نظر آتا ہے۔اختیارات کے استعمال سے یہی ؛ممولہ: ایکدم سیاسی :شاہین: کا روپ دھار لیتا ہے۔جو چرخ سیاست پہ “چرغ”بن ایسے ایسے سیاسی مخالفین کو کنجشک سمجھ کر شکار کرتا ہے کہ شاہین بھی کہیں پہاڑوں کی اونچائی پر کسی خزاں رسیدہ درخت پہ بیٹھا حساب کتاب لگا رہا ہوتا ہے کہ ایسا پکا نشانہ تو میرا بھی نہیں ہے جتنا کہ حضرت صدر(حضرت پنجابی سمجھا جائے)کا ہے۔ایسی صورت حال میں صدر کے غیض و ضغب سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جو صدر کی پناہ گاہ میں آ جائیں وگرنہ بندہ سیدھا دھر لیا جاتا ہے،در جاتا ہے یا دار پہ چڑھا دیا جاتا ہے۔
عہدہ صدارت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔اختیارات کے استعمال اور اثاثہ جات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔یہ دو فوائد جیسے جیسے بڑھتے جاتے ہیں مونچھ اور تاؤ کم ہوتا جاتا ہے۔ایک سابق صدر تو اب باقاعدہ ملک کو کلین سویپ کر کے کلین شیو کروانے لگ گئے ہیں کہ شائد مستقبل میں کہیں انہیں وزیر اعظم چن لیا جائے یا اپنے تئیں قصد کئے بیٹھیں ہوں۔صدر ہونے کے لئے چند شرائط و ضوابط اور مواقع و اختیارات قابل ذکر ہیں۔
تعلیمی قانلیت تھوڑی بھی ہو تو چلے گا بلکہ کم تعلیم یافتہ تو دوڑتا ہے۔کبھی وزیراعظم کے پیچھے پیچھے اور کبھی وزراء کے آگے آگے۔اچھی خاصی * دوڑ دھوپ کے بعد کہیں 23مارچ یا 14۔اگست کی تقریبات میں جا کر کہیں وزیر اعظم سے ملاقات بن پاتی ہے۔
ٌٌ * صدر بہتکم بولتا ہے۔وزیر اعظم کے سامنے تو بالکل نہیں ۔گویا صدر کا کم بولنا سیاسی درازئی عمر کا باعث بھی ہوتا ہے۔
* شکل و ھئیت میں جوگی،سادھو،مست و ملنگ،دھی بڑے فروش اور فالج زدہ بھی چل جاتا ہے۔سیدھا سادھا دکھنے والا سادھو مست سا صدر اپنے عہدہ صدارت پر تا دیر چمٹا رہ سکتا ہے۔کبھی کبھار تو “اگ لین آئی تے گھر والی بن بیٹھی”کے مصداق بس موقع ملا اور پھر گیارہ سال سے قبل واپسی ممکن خیال نہیں کی جاتی ۔ایسی صورت حال میں صدر خود نہیں جاتا
* استعفی سے
*یا سیدھا خدا کے پاس۔
* جمہوریت میں صدر ،وزیراعظم خوشی میں خوش اور فوج کی ناراضگی میں ناخوش ۔جبکہ آمریت میں صدر کو نہ وزیر اعظم اور نہ ہی فوج کا دبدبہ ڈرا سکتا ہے کیونکہ ایسی صورتحال میں فوج ہی صدر اور صدر ہی فوج یعنی one man armyہوتی ہے۔صدر کو سال بھر میں دو بار صدر ہاؤس سے نکال کر bath یا اشنان اشوک کرایا جاتا ہے ۔
rain bath
sun bath
موسم گرما میں4 1 ۔اگست،آزادی کی تقریبات rain bath کا بہترین موقع اور موسم سرما میں 23۔مارچ،یوم پاکستان کی تقریباتsun bath کا بہترین دن خیال کیا جاتا ہے۔ان دنوں میں صدر محترم کی خوشی دیدنی ہوتی ہے کہ اس بہانے انہیں عوام کا دیدار نصیب ہو جاتا ہے۔اور اس بات پہ بھی انبساط کا اظہار فرماتے ہیں کہ آج یقیناً لوگوں کو پتی چل گیا ہو گا کہ ملکی صدر کون ہے۔
ٌ*غیرملکی دوروں کا سن کر انہیں دورے یعنیfitsپڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔کپ ایک تو دورہ سرکاری اور سونے پہ سہاگہ کہ مع اہل و عیال۔ایک بار یہ محاورہ کسی وزیر کہ منہ سے از راہ تفنن کہیں نکل گیا جناب سنجیدگی کے ساتھ سونا لے آنے لگے کہ کافی منافع بخش کاروبار ہے۔اور اگر دورہ مقدس ہو یعنی عمرہ روانگی تو اہل و عیال کے علاوہ درجہ چہارم کے ذاتی خدم سے دور صحرائی رشتہ داروں کو بھی لے جانا باعث ثواب و مذہبی فریضہ خیال کیا جاتا ہے۔کہ شب و روز ا ثواب بٹتا ہے۔دونوں ہاتھوں سے لوٹ لو ویسے ہی جیسے دونوں ہاتھوں سے ملک سے دو دو ہاتھ کر کے سرکاری خزانہ لوٹا جاتا ہے۔میرے ملک میں :ویہلے بندے کو صدر بنایا جاتا ہے۔جہ کام کا نہ کاج کا بس دشمن اناج کا۔میرے اپنے محلے میں ایک ایسا ہی لڑکا ہے جسے اس کے گھر والے؛نواب ؛اور اہل محلہ سب صدر کہتے ہیں۔اتفاق سے وہ بھی کوئی کام نہیں کرتا ۔میری یہ مثال اس لئے نہیں کہ کوئی بھی صدر کچھ نہیں کرتے صدر پاکستان کہ تو اتفاق(انڈسٹری) کے زیر ساےۂ بھی کام کرنا پڑتا ہے کہ” ا تفاق “کے ساتھ کام کرنے میں ہی موجودہ سیاسی منظر نامہ میں برکت ہے۔یہ سب اتفاق کی برکت سے ممکن ہے۔کیونکہ ملک پاکستان میں:اتفاق :اب ایک انڈسٹری کی صورت اختیار کر گئی ہے۔لہذا جب تک آپ اتفاق کے ساتھ کام نہیں کریں گے آپ کے حال،وزارت اور کاروبار میں کبھی بھی برکت نہیں پڑنے والی۔یعنی اتفاق اور برکت کے بنا صدر محض صدر ہی رہتا ہے۔اور اگر :اتفاق :سے اتفاق کر لے تو صدر اعظم بنا دیا جاتا ہے۔
تقریبات کے علاوہ وہ دن یوم انبساط سے کم نہیں جب صدر بذریعہ میڈیا عوام سے مخاطب ہوتے ہیں۔اور اگر کوئی دوست احباب جناب کا “دیدار خاص”نہ کر سکے تو انہیں واٹس ایپ،فیس بک،ٹویٹر کے ذریعے باقاعدہ سرکاری دھمکی دی جاتی ہے کہ حق دوستی ادا کرنے سے تم قاصر رہے ہو۔اگر آئندہ جب کبھی بھی مجھے قوم سے یا مشترکہ پارلیمنٹ سے خطاب کا موقع ملا اور آپ دوست احباب پھر اس غلطی کے مرتکب پائے گئے تو آپ لوگوں کو صدر محترم کی فرینڈ لسٹ سے unfriendکر دیا جائے گا۔اب حال یہ ہے کہ لوگ جمہورہت اور اپنی بقا کے لئے صدر کی لسٹ سے وزیر اعظم کی” لسٹ نواز” ہو رہے ہیں۔کہ چل گیا تو تیر وگرنہ تکا۔اگر قبولیت ہوئی تو وارے نیارے وگرنہ”مینوں ہور بتھیرے:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں