114

ربیع الاول گُلشنِ بہار تحریر.حافظ محمد بدرمنیر

ربیع الاول کا مہینہ اس مخلوق انسانیت میں ایک بہارہے اور یہ بہار ایک الگ اور جداگانہ سرور کیفیت رکھتی ہے لغت عرب کے فصیح بلیغ معنی کے اعتبار سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کائنات میں بہارِ اول ہیں اس لیئے آقا کی آمد ولادت ایسے مہینے میں ہوئی، جمیع انسانیت سے موسوم ہے آپ ہر چیز کیلئے بہار کیسے تھے ایک تو یہ کہ بہار آتی ہی تب ہے جبکہ پہلے خزاں ہوں پیارے آقا ﷺکی آمد سے پہلے ظلم جبر ستم ظریفی عجب کشاں کشاں کاماحول ہو چکا تھاکہ جسم تو تھے احساس نہ تھا سر توتھا تاج وقار نہ تھا دماغ تو تھا سوچ نہیں تھی دل تو تھا دھڑکن نہ تھی زبانیں تھیں صداقت نہ تھی عدالت تو تھی لیکن انصاف نہ تھا سینہ تھا غم انسانیت نہ تھی زندگی تو تھی بندگی نہ تھی ہر طرف جہالت ہی جہالت گویا پھول تھے خوشبو نہ تھی چاند تھا چاندنی نہ تھی رہزن تھے رہبر نہ تھا بے بس تھے چارہ گر نہ تھا عدالتیں تھیں عدل نہ تھا منصف توتھے انصاف نہ تھا کعبہ تھا سجدہ نہ تھا انسان ایک وحشی سے بدتر ہوچکا تھا وحشی سے وحشی درندہ جانور بھی اپنے بچے کو قتل نہیں کرتا ہے لیکن انسان اپنے ہی جگر کے ٹکڑے معصوم بچیاں زندہ درگور کر رہا تھا بلکتی ہوئی انسانیت ایڑیاں اٹھا اٹھا کر کسی کرن آشنائی کسی مسیحا، رہبر کی راہ تک رہی تھی، اللہ پاک نے بِلا آخر کائنات کے افق پر ایک شمع رسالت کی روشنی نے جنم لیا جو جہالت کے اندھیرے کو ختم کرتی ہوئی کائنات کے آنگن میں روشنی ہی روشنی کر گئی ہر دل کا گلشن اس بہارزندگی سے لہلہانے لگا دبی ہوئی انسانیت نے وقار سے سر اٹھایا اور ظالم مہربان بن گئے عدالت عدیل بن گئی جابر دوسروں کے غم میں آنسوں بہانے لگا پتھر دل ہمدرد بن گئے چہروں پہ مسکراہٹ آگئی جیسے موسم بہار میں بادل برستا ہے ہر چیز جل تھل ہوجاتی ہے بنجر اور بیاباں زمین پر سبزہ لہلہانے لگتاہے اور مدتوں سے مٹی میں گم شدہ اور رلے ہوے بیج بھی سر نکال کر بہار کا مزہ لیتے ہیں ایسے ہی انسانیت کے اجڑے گلستان کی ہر شاخ لہلہاتے ہوے نغمہ سراں ہو گئی ہرپھول نما انسان اپنی خوشبو دینے لگا دیکھتے ہی دیکھتے کائنات میں بہار ربیع الاول نے سدا بہار رونق بخشی ایسی خوشبو مہکی کہ مہکتی ہی چلی گئی مشرق مغرب شمال جنوب معطر ہو کر اس بہار جاویدانی کا اعلان کرنے لگے آنے والا آگیا جس کے آنے سے کائنات انسانیت میں انسانیت آگئی جینے کا شعور آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی بہار نو بن کر آئے کہ جس پر کبھی خزاں آہی نہیں سکتی اس بہار کے پھول صداقت کے علمبردار ہیں سچائی کی خوشبو پھیلاتا ہواسیدنا صدیق اکبر کا کردار موجود ہے سیدنا عمرفاروق کی عدالت انصاف موجود ہے بے حیائی کو ختم کرنے والی اس بہار نو سے حیا میں جھلکتا ہوا کردار سیدنا عثمان غنی کی حیا موجود ہے ہر ظلم کے سامنے دیوار بن جانے والے شیر خدا سیدنا حیدرکرار موجود ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں