83

وزیروں کا وزیر۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم :: مرادعلی شاہد دوحہ قطر

وزیراعظم وہ جمہوری بچہ جو آمریت کی گود میں فوجی برانڈ فیڈر پیتے پیتے جوان ہوا ہوکہ بچے معصوم ہوتے ہیں انہیں کیا خبر آمریت کے کیا نقصانات اور جمہوریت کے کیا فوائد ہیں انہیں تو بس غرض دودھ پینے سے ہوتی ہے فوجی برانڈ ہو یا جمہوریت مارکہ ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم اب محض عہدہ ہی نہیں رہا بلکہ پروٹوکول، بزنس اور سیر سپاٹا کے مکمل پیکج کا نام ہے۔دورجمہوریت میں یہ عہدہ سیاسی کم معاشی زیادہ بنتاجارہاہے کہ جوبھی میرے ملک کا وزیراعظم بنتا ہے ۔سیاسیات سے معاشیات بہتر کرتاہے (جمہورکی نہیں اپنی) کہ سالہا سال کی سیاسی تپسیا اور سیاسی گروؤں سے اس بات کا سیاسی نروان پایاہے کہ معاشی استحکام کا راستہ سیاسی شاہ راہ سے ہوکر گزرتاہے۔
جمہوری وزیراعظم قسم جدید ہے شہنشاہیت کی یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے نام پہ مانگے گئے ووٹ سے جمہور کو ایسے بے وقوف بناکر یہ عہدہ حاصل کیاجاتاہے کہ انہیں دوبارہ پانچ سال بعد ہی شکل دکھانا ہوتی ہے جیسے بادشاہت میں بادشاہ سال میں ایک آدھ بار اپنا دیدار خاص رعیت کو کراتا تھا ۔
وزیراعظم کو دوہی موسم پسند ہیں الیکشن کا اور یورپ کا ۔دل چرانے اور موجیں لبھانی ہوں تویورپ تشریف لے جاتے ہیں مینڈیٹ چرانا ہو تو الیکشن کا سیاسی میلہ سجا لیتے ہیں۔ پسندیدہ مشغلہ ’’ حواریوں ‘‘ کوپالناہے جو دوران الیکشن اور پارلیمانی مخالفت میں اتنے ہی کام آتے ہیں جتنے کہ سنیفیرس ۔کبھی کبھار تویہ سنیفیرس کو بھی مات دے جاتے ہیں تاہم بدلتے سمے کے ساتھ ساتھ حواریوں نے بھی نیا سیاسی لباس زیب تن کرلیاہے اور حواریوں سے اب یہ ’’ پٹواری‘‘ بن گئے ہیں۔
جمہوری سیاسی نظام میں وزیراعظم کومرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے جبکہ وزراء ان کے گرد سیاسی مدار میں ایسے گھومتے ہیں جیسے نظام شمشی میں سیارے۔ کوئی مانے نہ مانے مگر وزیراعظم نے اپنی حرکتوں سے یہ ثابت کردیاہے کہ جمہوری وزیراعظم آمرسے بھی بڑا آمر ہوتاہے کہ آمریت میں ایک آدمی پرلوٹ مارکاالزام دھرا جاتاہے جبکہ جمہوریت میں تو ’’ لوٹ سیل ‘‘ لگی محسوس ہوتی ہے جس میں وزیراعظم مع مکمل اسکواڈ (حواریوں، جواریوں، پٹواریوں، منشیوں) جمہوری اداروں سے وہ گینگ ریپ کرتے ہیں کہ خدا پناہ ۔جس کی ایک مثال غیر ملکی دورہ ہے کہ دورانیہ مختصر ہوکہ طویل بادشاہی لاؤ لشکر کی یاد ضرور تازہ کر دیتاہے۔دورہ مکمل اسکواڈ کے ساتھ ہوگا، اور اسکواڈ فوج ظفرموج بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ فوج اور موج دونوں خوب خوب است ۔۔۔ کہ رب دتیاں گاجراں وچے رنبا رکھ۔
یہ حسن کمال بھی جمہوریت کا ہی ہے کہ اداروں کو فروغ ملا ہوکہ نہ ہو لوٹا کریسی اپنے نقطہ کمال تک ضروری پہنچی ہے کہ جس نے اب باقاعدہ صنعت کا درجہ ومقام حاصل کرلیاہے کہ اس سیاسی کاروبار میں آپ بزور زرسیاسی شاپنگ کرتے ہوئے جس ایم این اے کو بھی چاہیں ’’ سودا ‘‘ کرکے اپنا من بھاؤ نا وزیراعظم پاسکتے ہیں ، بناسکتے ہیں اور چلاسکتے ہیں۔منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم غیر ملکی دوروں پر اس قدر مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں ملکی معاملات اور پارلیمنٹ دیکھنے کا موقع کم کم ہی ملتاہے ہاں کبھی وقت نکل آئے تو پارلیمنٹ ہاؤس کا بھی مختصر دورانیہ کا دورہ رکھ لیتے ہیں اور ممبران کو ’’ رخ دیدار‘‘ بھی نصیب فرماتے ہیں جسے آپ دور جدید کی ’’ رسم جھروکہ ‘‘
” دیدار وزیراعظم “بھی کہہ سکتے ہیں۔
وزیراعظم کیلئے سب سے مشکل کام کابینہ کا انتخاب کرنا ہوتاہے کہ کابینہ میں ڈھونڈ ، ڈھونڈ کر رشتہ داروں کو براجماں کرنا ہوتا ہے اور اگر رشتہ دارکم پڑ جائیں تو نئی رشتہ داری بناکر کابینہ تشکیل دی جانا ہوتی ہے اس لیے یہ کام اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا کہ باہر سے خیال کیاجاتاہے کہ ’’ جو آنکھ کھاتی ہے وہ شرماتی بھی ہے‘‘ اور اگر آنکھ کھانے والی بھی ہو، شرمانے والی بھی اور رشتہ داری والی بھی توسرکار سونے پہ سہاگہ۔
وزیراعظم کے گرداس کے رشتہ دار اتنا نہیں گھومتے جتنا کہ حواری، پٹواری اور درباری ۔ویسے درباریوں میں ایک خوبی ضرورہوتی ہے کہ وہ رجائیت پسند ہوتے ہیں کہ وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ صادرکردینے تک بھی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سرکچھ نہیں ہونے دیں گے ۔ہم ہیں نا ۔سب اچھا کردیں گے اور ہوتا بھی ایسا ہی ہے کہ وہ “اپنے لیے” سب اچھا کرلیتے ہیں۔
کبھی کبھار میڈیا پر یہ شور بھی اٹھتا ہے کہ وزیراعظم کون سی تنخواہ لیتے ہیں۔ یہ بات من وعن ہے تو سچ ہی بابا۔۔۔کہ وزیراعظم تنخواہ نہیں ’’ مراعات‘‘ لیتے ہیں اور اگر تنخواہ اور مراعات کا موازنہ کیاجائے تو تنخواہ ایسے ہی ہے جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔۔۔ توسرکارکوئی بے وقوف ہی ہوگا جو اونٹ چھوڑ زیرہ منہ میں ڈالے۔
’’ کھانا‘‘ وزیراعظم کو بہت مرعوب ہے کہ کھانے میں کچھ نہیں چھوڑتے اس پہ کمال یہ کہ ہضم بھی کرلیتے ہیں بناڈکار کے۔کچھ بھی ہوجناب جمہوریت ، جمہوریت ہی ہے کہ جس میں وزیر ہی وزیر ہیں جمہور کا کہیں دور دور نام ونشان نہیں دکھتا۔
اﷲ محفوظ رکھے وزیراعظم بادشاہ اور جمہوری آمر سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں