82

” نون” نومبر،” دال” دسمبر : تحریر؛مرادعلی شاہد دوحہ قطر

ماہِ نومبر و دسمبر تاریخِ پاکستان میں اس لئے اہمیت کے حامل ہیں کہ دو عبقری شخصیات اقبال اور قائد مذکورہ ماہ میں آمد و رخصت ہوئے۔یعنی نومبر آمدِ اقبال(سالِ پیدائش)،دسمبر رخصتِ قائد(سالِ وفات)۔تاہم میرے لئے دونوں ماہ اس لئے قابلِ صد احترام ہیں کہ ماہ نومبر میں سردی کی آمد آمد سے ہر سُو رونق و زندگی کا احساس بیدار ہو نے لگتا ہے۔اور دسمبر اس بنا پہ ہمیشہ قابلِ ذکر کہ ٹھنڈ اور” کہر” سے “احساس وجذبات” تک ٹھنڈے نہیں تو ماند ضرور پڑ جاتے ہیں۔ہمہ وقت کمبل کو ہی محبوب بنائے اوڑھے اور “لپیٹے” رہنے کو دل چاہتا ہے۔اگر کمبل چھوڑنا بھی چاہے تو میرا دل و دماغ اور “جذبات” مزید مضبوط آہنی ہاتھوں سے پکڑے رہنے کو کہتے ہیں۔پھر کیا ہمیشہ کی طرح بیوی جب بھی مارکیٹ سے گوشت،سبزی لانے کو کہتی ہے تو میرے اندر کے ” جذبات” بیدار ہوں نا ہوں”میراثی” ضرور جاگ اٹھتا ہے۔تو ٹھنڈک بھرے ٹھٹھرتے لہجے میں کمبل ہی سے آواز لگا دیتا ہوں” دال گھر میں ہے نا وہی پکا لو” یہ ” ٹھنڈا نشہ” اس وقت کافور ہو جاتا ہے جب بیوی بحالتِ غصہ اور عالمِ غضب سے ” ڈیلے” نکالے پھنکارتی ہے کہ پندرہ دن سے اس گھر میں دال کے علاوہ اور کچھ پکا ہے کیا؟جو آج پھر چولہے پہ دال چڑھا دوں۔گویا آج دسمبر کی پندرہ تاریخ نا ہوئی دال کی پندرہ ہو۔تب کہیں اندر کا مراثی انگڑائی لیتے ہوئے،کمبل سے نکل ،ٹھنڈے فرش پہ پاؤں رکھ باہر نکلنے کو اکساتا ہے۔کہ بس میاں ابھی پندرہ دن اور ہیں اور پھر سردی چھو منتر۔مزید برآں نازک معدہ مزید دال کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔بیوی تک بات رہتی تو قابلِ برداشت ہو سکتی تھی کہ “اب تو عادت سی ہو گئی ہے” پر اب تو میرا بیٹا اسماعیل(جس کی آمد بھی ماہِ دسمبر میں ہوئی) بھی مجھ سے نالاں نالاں سا رہنے لگا ہے کہ بابا اب محلہ کا دوکاندار مجھ سے پوچھتا بھی نہیں کہ کیا لینا ہے؟بس دال ترازو میں ڈالتا ہے اور میرے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔
نومبر اور دسمبر میں ایک گہرا رشتہ اور بھی ہے کہ نومبر میں ہلکی پھلکی سردی ایک دم سے دسمبر میں سنجیدگی کا روپ اختیار کر لیتی ہے بالکل ایسے جیسے سازندے آلاتِ غنا کو مغنیہ کے صوتی اتار سے چڑھاؤ کی طرف جاتے ہوئے بھر پور ارتعاش پیدا کرتے ہوئے کرتے ہیں۔ماہِ نومبر ایسے ایام کہ جب نیم گرم پانی پنڈے کو میٹھی میٹھی “ٹکور” کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ ٹکور نومبر میں اتنی بھلی اور ” مزیدار” لگتی ہے کہ نیند اڑنے کی بجائے دوبارہ آنا شروع ہو جاتی ہے۔جیسے محبوب بیوی” نرم و گداز انگلیوں سے بالوں میں کنگھی پھیر رہی ہو۔یا ماں بچہ کو گود لئے لوری سنا کر سلانے میں مصروفِ عمل ہو۔ذکرِ اوًل میں گنجے حضرات سے معزرت کے ساتھ کہ جیسے بیوی مخروطی انگلیوں سے “خرخرا” لئے گنج پنے کو خرخرا رہی ہو۔جب یہ تمام کیفیاتِ حسینہ زہر سے بھی کڑوی لگنے لگ جائیں تو سمجھ لو کہ نومبر کی نرم گدی پہ دسمبر کی ٹھنڈی چوکی نے ڈھیرے جما لئے ہیں۔ویسے دسمبر کے آتے ہی موڈ رومانٹک سا ہونے لگتا ہے،بارش،بھیگنا،محبوب،ملاپ وغیرہ وغیرہ کا تصور سا ابھرنے لگتا ہے اور بندہ اپنے آپ کو الف لیلوی داستان کا کوئی کردار سمجھنے لگ جاتا ہے۔ان تمام رومان پرور ماحول و کیفیات پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب کیفیات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے نل میں پانی ندارد،چولہے میں گیس مافیہ،بجلی کا کہیں دور دور نام و نشاں بھی نہ ہو ،بس سردی ہی سردی سے جذبات بھی سرد ہو رہے ہوں تو ایسے میں ماہ دسمبر میں شاعری کا نزول بھی کچھ اس قسم کا ہوتا ہے۔
نہیں ہے گیس کا نام و نشاں بھی میرے گھر میں سلنڈر آگیا ہے
اسے کہنا جانم دسمبر آ گیا ہے
لفظ نومبر اردو حروفِ ابجد “نون” سے شروع ہوتا ہے” نون سے بہت سے ” حضرات” کے کان کھڑے ہو گئے ہونگے کہ شائد کسی سیاسی پارٹی کا تذکرہ ہونے لگا ہے۔تو ایسا ہرگز نہیں ” نون” سے ہرگز کسی سیاسی پارٹی کا تذکرہ نہیں بلکہ اسے پنجابی والا نون خیال کیا جائے یعنی”نمک” ۔نمک سے یقیناً سب کو یاد ہو گا کہ بچپن سے لڑکپن تک جب دسمبر کی شیتل اور یخ بستہ سردی میں ہفتہ ہفتہ ٹھنڈے پانی کو دور سے ہی بائے بائے کرتے تھے تو جب بھی دو تین ہفتوں بعد اماں کے ہاتھوں” گدڑ کٹ” لگاتے اماں کے غصہ کا اظہار اس طرح سے ہوتا کہ ” نون لاواں تیریاں ہڈیاں نوں کھوتے جڈا ہو گیا پر نہان دی عقل ہلے تک نئیں آئی” عقل آتی نہ آتی ٹھکانے ضرور لگ جاتی جب ٹھکانے پہ پڑتی۔
ذرا ہوش سنبھالنے پہ جب سکول جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے دیکھا کہ سکول کے باہر کبھی کبھار کچھ لوگ ایک خچر یا کھوتا پکڑے انہیں زبردستی “نون” دینے میں مصروفِ عمل دکھائی دیتے۔تو میں عرصہ دراز یہی خیال کرتا رہا کہ شائد نہانے سے یہ بھی گریز پا ہیں اسی لئے ان کے مالکان انہیں نون دے رہے ہیں۔ویسے آپ کو لگتا نہیں کہ ” نون” ابھی تک لوگوں کو گدھے،خچر ،گھوڑھے سمجھتے ہوئے نہ صرف نمک دے رہے ہیں بلکہ عوام کی ہڈیوں کو بھی نمک لگا رہے ہیں وہ بھی زخمی کر کے۔خدا محفوظ رکھے نومبر میں ” نون ” سے اور دسمبر میں ” دال” سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں