62

نواز شریف ،محمود اچکزئی کا نظریہ اور اعلیٰ عدلیہ ہر ہرزہ سرائی ؟ ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف آج کل اپنے کسی نئے تخلیق کردہ نظریہ کا پرچار کرنے کے لئے پاکستان کے مختلف صوبوں کا دورہ کر رہے ہیں ایبٹ آباد جلسہ کے بعد فیض آبادمیں جاری دھرنا شدت اختیار کر گیا تو اس دوران میاں صاحب اور ان کے چہیتیاں چہیتے خاموشی کی چادر تانے پردہ سکرین سے غائب رہے ،حکومت کی بے پناہ سبکی ہونے کے بعد اگلے دن عدالت پیشی اوراب پختونخواہ ملی پارٹی کے بانی خان عبدالصمد خان کی44ویں برسی کے موقع پر ایوب سٹیڈیم کوئٹہ پہنچ گئے،خان عبدالصمد خان میاں نوز شریف کے ہر دم ساتھی محمود اچکزئی کے والد تھے محمود اچکزئی کے بڑے بھائی محمد خان اچکزئی صوبہ بلوچستان کے موجودہ گورنر ہیں،میاں نواز شریف اپنی نا اہلی کے بعد سے لے کر آج تک اعلیٰ عدلیہ پر تابڑ توڑ حملہ کرنے کاکوئی موقع نہیں جانے دیتے،کوئٹہ میں کچھ ایسا ہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر ہواجسے جتنا بھی شرمناک قرار دیا جائے کم ہے،نواز شریف نے کہا جسے عوا م پلس کریں اسے مائنس ون نہیں کیا جا سکتا آمرکی چھری تلے  کے تحت حلف اٹھانے والے 5لوگوں(وہ پانچ لوگ نہیں بلکہ اعلیٰ ترین عدالت کے معرززترین جج صاحبان ہیں) نے اس کے خلاف صادق اور امین نہ ہونے کا فیصلہ کیا ،یہ انصاف نہیں بلکہ انتقام ہے ملک میں 1970سے جاری پلس مائنس کو ختم کرنا ہو گامیرے خلاف انکوائری میں ملک بھر سے6ہیرے(جے آئی ٹی ارکان) چنے گئے ،اس جلسہ میں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ اور شرمناک بات تھی وہ یہ کہ جب بھی میاں نواز شریف اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف بات کرتے اسی وقت مجمع سے  کی آوازیں آنا شروع ہو جاتیں جنہیں الراقم نے ہی نہیں دنیا بھر نے سنا،ان گھٹیا ترین حرکات پر انہیں کسی نے نہیں روکا بلکہ اسے حقیقی عوامی ہمدردی سے تعبیر کیا جاتا رہا،دنیا کے کسی مہذب کیا بد تہذیب ملکوں میں بھی ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ججوں کے بارے کبھی کسی نے شیم شیم کے الفاظ نہیں سنے ہوں گے،ہر کام کی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے مگر لگتا ہے حالات کے موجودہ تناظر میں اب نواز شریف کے پاس کوئی حد رہ ہی نہیں گئی ،اس بات سے بہت تکلیف پہنچی بہت دکھ ہوا مگر بڑے لوگ اقتدار کے نشہ میں چور رہنے کے بعد بھی جھومتے اور کسی نشئی کی طرح بہت کچھ کہنے میں کچھ قباحت محسوس نہیں کرتے ان کے نزدیک ہر کوئی چھان بورا ہے چاہے وہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے معرزترین جج ہی کیوں نہ ہوں،میاں نواز شریف کی ایسی باتیں توہین عدالت ہیں یا نہیں ،عدلیہ ان کا نوٹس لے یا نہ لے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں البتہ اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں اس شیم شیم جیسی نوعیت کی بکواس ہر لحاظ سے انتہائی واہیات حرکت ہے انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ نا اہلی کے خلاف جلسہ میں موجود شرکاء سے اپنے حق میں ہاتھ بھی اٹھوائے ،ایوب سٹیڈیم میں میاں نواز شریف نے ایک بار اپنے نظریئے کی بات کرتے ہوئے کہا محمود اچکزئی کے ساتھ میرا نظریاتی تعلق ہے پتا نہیں میاں نواز شریف کا اصل نظریہ ہے کیا؟ہر نظریہ جسے سازش سے تعبیر کیا جاتا ہے کی تان اسٹیبلشمنٹ پر کیوں ٹوٹتی ہے؟عدلیہ کو شیم شیم کہنا کس نظریہ کے زمرے میں آتا ہے؟ذرہ تصور کریں اگر ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ شیم شیم کی مستحق ہے تو پھر ہائی کورٹس اور دیگر ماتحت عدلیہ کاعالم کیا ہو گا؟اسی عدلیہ حتیٰ کہ سیشن کورٹس کے فیصلے پر بھی بعض اوقات بندے کو سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ،پاکستان بھر کی جیلیں بھری اور اٹی پڑی ہیں دہشت گردوں سے ہٹ کر پھر تو سبھی نظام عدل کا ہی شکار ہیں؟وہ کیسے اور کسے شیم شیم کہیں؟اپنے اقتدار کے لئے میاں نواز شریف کو اقتدار کے لئے قوم پرست لیڈر محمود اچکزئی نے ہمیشہ سپورٹ کیا حیرت ہے کہ پاکستان کے خلاف بات کرنے والے قوم پرست سیاستدان جس نے اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر بھائی کو گورنر بلوچستان بھی لگوا رکھا ہے نے رواں سال18اگست کی غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔مسئلہ کشمیر کا اصل حل اس کی مکمل آزادی ہے مطلب پاکستان اور انڈیا کشمیر کو چھوڑ دیں اور پاکستان اس حوالے سے پہل کرے کیاشرمناک منطق ہے اب تک لاکھوں قربانیوں کا اس نظریاتی آدمی نے گلا گھونٹ دیاجس پاکستان سے الحاق کے لئے کشمیری مسلمان کئی دہائیوں سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ہر قسم کے آلام اور مصیبتیں سہیں اور سہہ رہے ہیں، جن کے گھر روزانہ کی بنیاد پر لاشوں کا دسترخوان سجتا ہے یہ سب دیکھنے اور سمجھنے کے لئے محمود اچکزئی کے کان اور آنکھیں شاید کام نہیں کرتے انہیں آج ہی بڈگام میں ہونے والے میچ کے دوران کشمیریوں کی والہانہ محبت سے لبریز نعرے اور جوش و جذبہ کوئی دکھا دے،سمجھا دے جب مقبوضہ کشمیر میں فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، مگر ایسے افراد جو ملکی نظریات پر قوم پرستی کے نظریات کی چادر تانے ہوں وہ اپنی ریاست کے حوالے سے سمجھنے سوچنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں گذشتہ سال 30جون کو محمود اچکزئی نے ہی افغان اخبار افغانستان ٹائمز کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھاخیبر پختونخواہ افغانیوں کا ہے تاریخی طور پر وہ افغانستان کا حصہ تھا اگر افغانیوں کو پاکستان سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو وہ ایسا نہیں کرنے دیں گے اگر پاکستان اور افغانستان کہیں تو امریکہ اور چین ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ حل کرا دیں گے،جس طرح کشمیر پر محمود اچکزئی کے بیان پر ہر طبقہ سے شدید مذمت کی گئی جس کا دکھ اب بھی ہر محب وطن پاکستانی کو ہے گریٹر افغانستان کے حقیقی حامی کے اس بیان پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے رد عمل کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ محموداچکزئی کے اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس نے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں ،ان کا یہ بیان عالمی امیگریشن اور سرحدی قوانین کے خلاف ہے ذرہ تصور کریں کیا خیبر پختونخواہ کے بغیر پاکستان کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟یہ کیسے نظریات ہیں جو آج کل آپس میں جڑ گئے ہیں ،بغلگیر ہو گئے ہیں جو ملکی سلامتی ،تحفظ اور قومی سوچ کے برعکس اور متضاد ہیں۔کوئٹہ میں نواز شریف کے جلسہ پر پیپلزپارٹی کے ترجمان چوہدری منظور کا کہنا تھا۔کوئٹہ جلسہ نواز شریف کی سیاسی شکست کا اعتراف ہے وہ لوٹا کریسی کے بعد اب نظریاتی لوٹا کریسی کو پروان چڑھا رہے ہیں کیونکہ اب انہوں نے بھرے جلسہ میں مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کے نظرئیے پر چلنے کا اعلان کیا ہے ، چوہدری منظور احمد کاش یہی بات اپنے قائدین کو بھی بتا دیں کیونکہ پیپلز پارٹی کا نظریہ بھی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر استوار تھا مگر وہ سب کہا ں ہے ؟بہرحال مسلم لیگ میں اب مریم نواز کی مکمل انٹری ہونے کے ساتھ ساتھ باغی سیاستدان لوٹ کے پھر سے نواز شریف کی پارٹی کو جلا بخشنے آچکے ہیں وہ ہی انہیں سمجھا دیں کہ اعلیٰ عدلیہ پر بھرے جلسہ میں شیم شیم نہیں کہلوایا جاتا پہلے تو چوہدری نثار علی خان سے یہ امید تھی جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دم توڑ گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں